بانیٔ پی ٹی آئی علیمہ خان نے کہا ہے کہ 26ویں آئینی ترمیم کے بعد ملک میں عدلیہ کی آزادی مکمل طور پر ختم ہوچکی ہے، جس کے باعث نوجوانوں میں مایوسی بڑھ رہی ہے اور وہ بیرونِ ملک جانے کو ترجیح دے رہے ہیں۔
راولپنڈی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علیمہ خان نے کہا کہ اگر عدلیہ آزاد نہ ہو تو نہ سرمایہ کاری آسکتی ہے اور نہ ہی ملک ترقی کرسکتا ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں ججز بھی دباؤ کا شکار ہیں اور انہیں مخصوص فیصلے کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ “اگر ہمیں حق بات کرنے پر سزا دینی ہے تو ضرور دیں، لیکن ہم اپنے آئینی حقوق، آزاد جمہوریت اور عدلیہ کی آزادی کے لیے آواز اٹھاتے رہیں گے۔” علیمہ خان کے مطابق اگر 24 کروڑ عوام بھی اپنے حقوق کے لیے آواز نہ اٹھا سکیں تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ ملک میں اختیارات کس کے لیے استعمال ہورہے ہیں۔
علیمہ خان نے مزید کہا کہ حکمران طبقہ کھل کر یہ تاثر دے رہا ہے کہ ملک صرف چند لوگوں کی “کمپنی” بن چکا ہے جبکہ باقی عوام کو غلام سمجھا جارہا ہے۔ اُن کے مطابق آئین شہریوں کو اپنے حقوق کے لیے نکلنے کی اجازت دیتا ہے، مگر احتجاج کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائیاں کی جاتی ہیں۔انہوں نے 26 نومبر کے احتجاجی مظاہروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اُس روز عوام اپنے بنیادی حقوق، عدلیہ کی آزادی، جمہوریت، آئین کی بالادستی اور مبینہ ووٹ چوری کے خلاف باہر نکلے تھے۔ علیمہ خان کے مطابق بانیٔ پی ٹی آئی عمران خان کی کال پر ہونے والا یہ احتجاج ملکی سیاسی تاریخ میں یاد رکھا جائے گا۔