کوٹ لکھپت میں پولیو ٹیم پر حملہ کرنے کا واقعہ پیش آیا ہے، جس کے نتیجے میں خاتون پولیو ورکر کا سر پھٹ گیا ہے۔
یہ واقعہ اس وقت ہوا جب پولیو مہم کے دوران ملزمہ ثمینہ بابر اور اس کے دو بیٹوں نے بچوں کو ویکسین لگوانے سے انکار کر دیا۔ پولیو ورکر صبا تاج نے انہیں سمجھانے اور ویکسین کے فوائد بتانے کی کوشش کی، مگر ملزمہ ثمینہ بابر نے غصہ میں آ کر اپنی دو بیٹیوں کے ہمراہ حملہ کر دیا۔ اس دوران، ایک اینٹ لگنے کے سبب خاتون پولیو ورکر کا سر شدید زخمی ہو گیا، جس سے وہ زخمی ہو گئی اور اسے فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا۔پولیس کا کہنا ہے کہ واقعہ کے بعد پولیو ٹیم کے انچارج محمد ایاز اشرف کی درخواست پر مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
مقدمہ میں تشدد، سنگین دھمکیاں دینے، اور کار سرکار میں مداخلت کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔ ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرتے ہوئے ان کے خلاف قانونی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔ پولیس کا یہ بھی کہنا ہے کہ ملزمہ ثمینہ بابر اور اس کے دونوں بیٹوں کے خلاف کارروائی جاری ہے، اور انہوں نے متاثرہ پولیو ورکر کی سکوٹی کو بھی نقصان پہنچایا ہے۔ اس واقعہ کے نتیجے میں محکمہ صحت اور پولیو مہم کے عملے میں بے چینی پائی جا رہی ہے، اور قانون کے مطابق فوری کارروائی کی جا رہی ہے۔