وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان نے پہل نہیں کی بلکہ اس کا صبر لبریز ہوچکا تھا اور بھارت کے جارحانہ اقدامات کا بھرپور جواب دیا۔
انہوں نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ پاکستان کی تیاری شروع دن سے تھی اور اس کا مظاہرہ دنیا نے دیکھ لیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکہ کے وزیر خارجہ سے بات ہوئی اور انہیں آگاہ کیا کہ پاکستان کی کارروائی جوابی تھی اور اب بھارت کو اپنی کارروائیوں کا جواب دینا پڑے گا۔اسحاق ڈار نے بھارتی حملوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ 80 بھارتی ڈرون پاکستان کی فضائی حدود میں داخل ہوئے اور ان حملوں میں 35 پاکستانی شہری شہید ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی طرف سے امن کی باتیں کی جا رہی تھیں لیکن حقیقت میں وہ جارحیت جاری رکھے ہوئے تھا۔ اس کے علاوہ انہوں نے بھارت کی جھوٹ بولنے کی پالیسی پر بھی تنقید کی اور کہا کہ بھارت نے کبھی بھی اپنے الزامات کو ثابت نہیں کیا۔
وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ بھارت نے پاکستان پر کئی حملے کیے، مگر اب پاکستان نے جوابی کارروائی کی ہے اور بھارتی طیاروں اور ڈرونز کو گرا کر اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا۔ اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ بھارت کے لیے یہ ثابت کرنا ناممکن ہے کہ وہ جوہری طور پر طاقتور ہے اور پاکستان نے ہمیشہ امن کی کوشش کی ہے۔ وزیر خارجہ نے خبردار کیا کہ اگر بھارت نے دوبارہ جارحیت کی تو پاکستان کی جوابی کارروائی مزید شدید ہوگی اور کشیدگی کا اثر خطے سے باہر بھی پڑے گا۔