سندھ طاس معاہدہ کی خلاف ورزی بڑا سانحہ،پانی پر کوئی سودے بازی نہیں ہوگی سپیکر پنجاب اسمبلی

 پاکستان امن چاہتا ہے، مگر کمزوری نہیں،بھارتی حکومت کی ہندتوا سوچ نہ صرف داخلی اقلیتوں بل کہ پوری خطے کی خودمختار ریاستوں کے لیے بھی خطرہ بن چکی 
اگریہ جنگ پانی کی ہے تو یادرکھیں،پاکستانی قوم اپنی نسلوں کے تحفظ کے لیے 100 سال تک لڑنے کا حوصلہ رکھتی ہے،ملک محمد خان کا یوایم ٹی میں خطاب
لاہور(سپیشل رپورٹر) سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے کہا ہے سندھ طاس معاہدہ کی خلاف ورزی ایک بہت بڑا سانحہ ہے اور اگر ہم پر جنگ مسلط کی گئی تو پاکستان کی مسلح افواج اور پوری قوم مل کر اس کا جواب دیں گے۔ وہ یو ایم ٹی لاہور میں منعقدہ ''سندھ طاس معاہدہ: چیلنجز، خودمختاری اور حکمت عملی'' کے عنوان سے مکالمے میں خطاب کر رہے تھے۔ سپیکر ملک محمد احمد خان نے مزید کہا کہ پاکستان امن چاہتا ہے، مگر کمزوری نہیں۔ اگر بھارت نے سندھ طاس معاہدہ کو توڑنے کی کوشش کی تو پاکستان اپنے تمام سفارتی، قانونی اور سٹریٹیجک آپشنز استعمال کرے گا۔ پانی پاکستان کی زندگی ہے، اور اس پر کوئی سودے بازی نہیں ہوگی۔ اگر یہ جنگ پانی کی ہے، تو یاد رکھیں، پاکستانی قوم اپنی نسلوں کے تحفظ کے لیے 100 سال تک لڑنے کا حوصلہ رکھتی ہے۔ ملک محمد احمد خان نے کہا کہ 1960 کا سندھ طاس معاہدہ پاکستان کی امن پسندی اور رواداری کی علامت تھا، لیکن بھارت کی جانب سے دریائے چناب، جہلم اور سندھ پر متنازعہ ڈیمز اور منصوبے معاہدے کے یک طرفہ خاتمے کے مترادف ہیں۔سپیکر ملک محمد احمد خان نے واضح کیا کہ بھارتی حکومت کی ہندتوا سوچ نہ صرف داخلی اقلیتوں بل کہ پوری خطے کی خودمختار ریاستوں کے لیے بھی خطرہ بن چکی ہے۔ سپیکر ملک محمد احمد خان نے کہا کہ 25 کروڑ عوام کا حق کوئی ملک چھینے گا تو اسے جواب دیں گے، اگر جنگ مسلط ہوئی تو ہم افواج پاکستان کے ساتھ مل کر لڑیں گے۔ سپیکر ملک محمد احمد خان نے کہا کہ بھارت آبی وسائل کو بطور ہتھیار استعمال کر رہا ہے، اور اس کی یہ روش واٹر ٹیررازم کے مترادف ہے۔ پاکستان ایک ذمہ دار ریاست ہے اور پاکستان نے ہمیشہ بین الاقوامی قوانین و معاہدوں کی پاسداری کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پانی کو روکنا، بڑی جنگ کو دعوت دینا ہے۔ چین کے گاما پترا سے 38 فیصد پانی بھارت جاتا ہے، اگر پاکستان کا پانی رکا تو چین بھی پانی روک سکتا ہے۔ تقریب سے صدر یو ایم ٹی اور سابق صوبائی وزیر ابراہیم حسن مراد نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی آبی دہشتگردی خطے کے امن اور معیشت کے لیے خطرناک ہے، اور اس مسئلے پر قومی سطح پر پالیسی سازی ناگزیر ہے۔ تقریب میں سینئر صحافی سہیل وڑائچ، ڈائریکٹر یو ایم ٹی ڈاکٹر آصف رضا، چیف ایڈوائزر جنرل (ر) جاوید حسن، قانونی ماہر احمر بلال صوفی اور انجینئر طاہر بشارت سمیت دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا۔ تقریب کے اختتام پر صدر یو ایم ٹی ابراہیم مراد نے سپیکر پنجاب اسمبلی کو یادگاری سووینیئر بھی پیش کیا۔