نئے سپریم لیڈر کے اعلان کے فوراً بعد امریکا اور اسرائیل کی ایران پر بمباری

نئے سپریم لیڈر کے اعلان کے فوراً بعد امریکا اور اسرائیل کی ایران پر بمباری

ایران میں نئے سپریم لیڈر کے اعلان کے بعد امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے مختلف شہروں پر فضائی حملوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں جس کے باعث خطے میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق تہران، اصفہان، تبریز اور کارج میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ یکے بعد دیگرے ہونے والے دھماکوں سے کئی سرکاری اور نجی عمارتوں کی کھڑکیاں اور دروازے لرز اٹھے جبکہ بعض علاقوں میں خوف و ہراس پھیل گیا۔رپورٹس کے مطابق اصفہان میں گورنر آفس کے قریب دھماکے ہوئے جبکہ ایک قدیم شاہی محل، جو یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے میں بھی شامل ہے، حملوں کی زد میں آنے کی اطلاعات ہیں۔ اصفہان میں ہونے والے دھماکے ایران کی اہم جوہری تنصیبات کے قریب بھی رپورٹ کیے گئے ہیں۔دوسری جانب بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران میں موجود افزودہ یورینیم کے ذخائر محفوظ ہیں اور جوہری مواد کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔

ادھر ایرانی فوج اور انقلابی گارڈز کی جانب سے حملوں کے خلاف مزاحمت جاری رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ ایرانی فوجی حکام کا کہنا ہے کہ ایران اپنی دفاعی صلاحیت کے تحت بھرپور جواب دینے کی پوزیشن میں ہے۔ایرانی فوج کے مطابق وہ ایک ٹن سے کم وزن کا کوئی میزائل استعمال نہیں کریں گے اور ضرورت پڑنے پر بڑے پیمانے پر جوابی کارروائی کی جائے گی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران کی جانب سے اسرائیل پر کچھ جوابی میزائل بھی داغے گئے ہیں۔تازہ صورتحال کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں سکیورٹی خدشات بڑھ گئے ہیں اور عالمی برادری کی جانب سے کشیدگی کم کرنے کی اپیلیں بھی سامنے آ رہی ہیں۔