مردوں کے شانہ بشانہ بہترین صلاحیتوں کا مظاہرہ کر رہی ہیں: ڈاکٹر عثمان انور
لاہور(کرائم رپورٹر)انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے خواتین کے عالمی دن کے موقع پر کہا کہ پنجاب پولیس صنفی مساوات کی سب سے بڑی داعی، شہدا، غازیوں کی بہادر ما ئوں، بہنوں اور بیٹیوں کو سلام پیش کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج کی عورت پہلے سے کہیں زیادہ باشعور، باہمت اور بااختیار ہے۔ وزیر اعلی پنجاب مریم نواز شریف کے ویڑن کے تحت خواتین سے جنسی ہراسگی زیادتی، تشدد اور استحصال کے خلاف بھرپور جدوجہد کا عزم دہراتے ہیں۔ پنجاب پولیس کے تمام شعبوں میں خواتین مردوں کے شانہ بشانہ بہترین صلاحیتوں کا مظاہرہ کر رہی ہیں۔ خواتین پولیس افسران و اہلکاروں کا لا اینڈ آرڈر، کرائم کنٹرول اور کمیونٹی پولیسنگ میں شاندار کردار ہے۔ پنجاب پولیس میں خدمات انجام دینے والی خواتین ہمارا فخر اور قیمتی اثاثہ ہیں۔ آئی جی پنجاب نے کہا کہ خواتین پولیس اہلکاروں کیلئے ڈے کیئر سنٹر، میس، لائبریری اور گیم ایریا پر مشتمل سیف سٹیز وویمن ہاسٹل کے قیام سمیت فلاحی اقدامات کیے گئے ہیں۔ پائیدار معاشی و معاشرتی ترقی کے لئے خواتین کو مساوی مواقع اور محفوظ ماحول کی فراہمی ناگزیر ہے۔ خواتین کے خلاف جرائم کی صورت میں فوری ایف آئی آرز کا اندراج اور مجرموں کی گرفتاری یقینی بنا رہے ہیں۔ گذشتہ سال خواتین کے خلاف جرائم کی ایف آئی آرز میں 90 فیصد ملزمان کی گرفتاری یقینی بنائی گئی۔خواتین کے لئے ڈرائیونگ ٹریننگ سنٹرز، تحفظ مراکز، تحفظ منزل فوسٹر ہوم، ورچوئل وویمن پولیس سٹیشنز، وویمن انکلیو اور اینٹی وویمن ہراسمنٹ اینڈ وائیلنس سیل قائم کئے گئے ہیں۔ آئی جی پنجاب نے مزید کہا کہ معاشرتی ناانصافی کا شکار خواتین کے لیے وویمن سیفٹی ایپ، پینک بٹن اور ہیلپ لائن 15 کی سہولت فراہم کی ہیں۔خواتین کے خلاف جنسی جرائم کی تفتیش کے سپیشلائزڈ ایس ایس آئی او یو کی تعداد 115 سے بڑھا کر 263 کی جا رہی ہے۔ اینٹی ریپ ایکٹ کے تحت قائم ایس ایس آئی او یو میں تربیت یافتہ خواتین پولیس افسران انویسٹی گیشن کے فرائض انجام دے رہی ہیں۔ پنجاب پولیس میں
ڈیوٹی انجام دینے والے خواتین کی فلاح و بہبود اولین ترجیح ہے۔