پی ایس ایل 2026 میں ٹیموں کی تعداد 8 ہونے سے پی سی بی کی آمدن میں اربوں روپے کا اضافہ

پی ایس ایل 2026 میں ٹیموں کی تعداد 8 ہونے سے پی سی بی کی آمدن میں اربوں روپے کا اضافہ

پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) 2026 کے مالیاتی اعداد و شمار، اخراجات، آمدن اور منافع کی تفصیلات سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکرٹریٹ میں پیش کر دی ہیں، جس میں لیگ کی آمدن اور منافع میں نمایاں اضافہ سامنے آیا ہے۔

چیئرمین سینیٹر رانا محمود الحسن کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں پی سی بی حکام نے تفصیلی بریفنگ دی۔ حکام کے مطابق پی ایس ایل میں ٹیموں کی تعداد 6 سے بڑھا کر 8 کرنے کے بعد آمدن میں واضح اضافہ ہوا ہے اور منافع کئی گنا بڑھ گیا ہے۔پی سی بی کے مطابق پی ایس ایل 2026 میں مجموعی اخراجات 2 ارب 64 کروڑ 54 لاکھ روپے سے زائد رہے، جبکہ مجموعی آمدن 10 ارب 19 کروڑ 52 لاکھ روپے سے تجاوز کر گئی۔ اس طرح لیگ کا قبل از ٹیکس منافع 7 ارب 54 کروڑ 98 لاکھ روپے ریکارڈ کیا گیا، جو گزشتہ برسوں کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔اعداد و شمار کے مطابق 2024 میں پی ایس ایل کا منافع 2 ارب 46 کروڑ روپے جبکہ 2025 میں تقریباً 2 ارب روپے تھا، تاہم 2026 میں یہ بڑھ کر ساڑھے 7 ارب روپے سے تجاوز کر گیا۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ نئی ٹیموں کی شمولیت سے فرنچائز فیس میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ ساتویں ٹیم 1.75 ارب روپے جبکہ آٹھویں ٹیم 1.85 ارب روپے میں فروخت ہوئی، جبکہ ملتان سلطانز
کی مالیت 2.45 ارب روپے رہی۔ اس طرح فرنچائز فیس کی مد میں مجموعی طور پر 8 ارب 80 کروڑ روپے سے زائد وصول ہوئے۔پی سی بی حکام کے مطابق لیگ کی آمدن کے اہم ذرائع میں میڈیا رائٹس، اسپانسرشپ، براڈکاسٹنگ رائٹس اور گیٹ منی شامل ہیں۔ بتایا گیا کہ ان ذرائع سے حاصل ہونے والی آمدن کا تقریباً 95 فیصد حصہ ٹیموں کو منتقل کیا جاتا ہے جبکہ 5 فیصد پی سی بی کو ملتا ہے۔اجلاس کو یہ بھی بتایا گیا کہ پی سی بی کے سینئر افسران کی تنخواہیں 12 سے 24 لاکھ روپے ماہانہ کے درمیان ہیں۔ اس کے علاوہ بورڈ کے انتظامی ڈھانچے، ممبران کی تقرری اور نمائندگی کے حوالے سے بھی سوالات اٹھائے گئے۔

کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ ایک کرکٹ اسٹیڈیم کی تعمیر پر 12 سے 14 ارب روپے لاگت آتی ہے، جبکہ کراچی اسٹیڈیم کی تزئین و آرائش پر تقریباً 5 ارب روپے خرچ کیے جا رہے ہیں۔ اسلام آباد میں اسٹیڈیم کی تعمیر سی ڈی اے کے ذریعے جاری ہے۔اجلاس میں اراکین نے بورڈ میں صوبائی اور علاقائی نمائندگی، خصوصاً خواتین کی شمولیت بڑھانے کی تجاویز بھی پیش کیں، تاہم پی سی بی حکام نے کہا کہ اس حوالے سے حتمی منظوری حکومت اور متعلقہ اداروں کی جانب سے دی جاتی ہے۔