پیٹرول، موبائل، خریداری اور تنخواہوں پر ٹیکس، کیا عام شہری پر بوجھ مزید بڑھ رہا ہے؟

پیٹرول، موبائل، خریداری اور تنخواہوں پر ٹیکس، کیا عام شہری پر بوجھ مزید بڑھ رہا ہے؟

نئے وفاقی بجٹ سے قبل ایک بار پھر یہ بحث شدت اختیار کر گئی ہے کہ پاکستان میں سب سے زیادہ ٹیکس کون ادا کر رہا ہے اور کیوں وہ طبقات اب بھی ٹیکس نیٹ سے باہر ہیں جو معیشت میں بڑا کردار رکھتے ہیں۔

اعداد و شمار اور معاشی تجزیوں کے مطابق ملک میں لاکھوں تنخواہ دار افراد اپنی آمدن سے براہِ راست انکم ٹیکس ادا کرتے ہیں، تاہم اس کے ساتھ ساتھ انہیں روزمرہ زندگی میں بالواسطہ ٹیکسوں کا بھی سامنا ہے، جو پیٹرول، موبائل فون اور اشیائے خورونوش سمیت تقریباً ہر شعبے میں شامل ہیں۔ایک نجی تعلیمی ادارے سے وابستہ خاتون نے بتایا کہ تنخواہ سے ٹیکس کٹنے کے بعد بھی پیٹرول اور دیگر اشیاء پر اضافی ٹیکس ادا کرنا پڑتا ہے، جس سے محدود آمدن مزید متاثر ہوتی ہے۔ اسی طرح آن لائن کاروبار سے وابستہ افراد نے بھی پیٹرولیم لیوی اور دیگر چارجز کو مالی دباؤ کی بڑی وجہ قرار دیا ہے۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں مجموعی ٹیکس وصولیوں کا بڑا حصہ بالواسطہ ٹیکسوں پر مشتمل ہے، جس کے باعث مختلف آمدن رکھنے والے طبقات پر بوجھ تقریباً یکساں پڑتا ہے۔ماہرین کے مطابق مالی سال کے دوران پیٹرولیم لیوی کی مد میں 1200 ارب روپے سے زائد وصولی کی گئی، جو گزشتہ برسوں کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔ اس کے اثرات ٹرانسپورٹ، اشیائے ضروریہ اور مجموعی مہنگائی کی صورت میں سامنے آ رہے ہیں۔

ایف بی آر کے مطابق گزشتہ مالی سال میں تنخواہ دار طبقے نے 605 ارب روپے سے زائد انکم ٹیکس ادا کیا، جو بعض بڑے کاروباری اور غیر دستاویزی شعبوں کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ زراعت، ریٹیل اور ہول سیل سمیت کئی بڑے شعبے ابھی تک مکمل طور پر ٹیکس نیٹ میں شامل نہیں ہو سکے، جس کے باعث ٹیکس بوجھ غیر متوازن ہو جاتا ہے۔معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر جدید ڈیجیٹل نظام، مؤثر نگرانی اور وسیع ٹیکس اصلاحات نافذ کی جائیں تو بغیر نئے ٹیکس لگائے بھی محصولات میں اضافہ ممکن ہے۔دوسری جانب کاروباری طبقہ مؤقف رکھتا ہے کہ بلند ٹیکس شرح اور بڑھتی لاگت سرمایہ کاری اور کاروباری سرگرمیوں کو متاثر کر رہی ہے، اس لیے ٹیکس نیٹ کو وسعت دینا ہی پائیدار حل ہے۔

بجٹ سے قبل عوامی توقعات یہی ہیں کہ حکومت نئے ٹیکس عائد کرنے کے بجائے ٹیکس نیٹ کو وسیع کرے اور ان شعبوں کو بھی شامل کرے جو اب تک مؤثر نظام سے باہر ہیں۔