تہران میں ایران کی جانب سے خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر کیے گئے مبینہ میزائل حملوں کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد مشرق وسطیٰ میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ کارروائی امریکا کی جانب سے جنوبی ایران میں کیے گئے حملوں کے جواب میں کی گئی۔ فوجی کمان Khatam al-Anbiya Central Headquarters نے دعویٰ کیا ہے کہ خطے میں موجود بعض امریکی فوجی تنصیبات کو کامیابی سے نشانہ بنایا گیا۔ایرانی میڈیا کی جانب سے نشر کی گئی ویڈیو میں میزائل لانچنگ اور اہداف کی جانب پیش رفت کے مناظر دکھائے گئے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق حملوں میں قدر، عماد اور خیبر شکن نامی طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل استعمال کیے گئے۔ایرانی ذرائع ابلاغ کا دعویٰ ہے کہ بحرین اور اردن میں موجود امریکی فوجی اڈے ان حملوں کا ہدف تھے، تاہم امریکی حکام کی جانب سے ان دعوؤں کی فوری طور پر تصدیق نہیں کی گئی۔
ایران کا کہنا ہے کہ وہ اپنی سرزمین اور مفادات پر کسی بھی حملے کا جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے اور اگر خطے میں کارروائیاں جاری رہیں تو مزید سخت ردعمل بھی سامنے آ سکتا ہے۔دوسری جانب عالمی برادری نے فریقین سے کشیدگی کم کرنے اور سفارتی راستہ اختیار کرنے پر زور دیا ہے، جبکہ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ صورتحال مشرق وسطیٰ میں سکیورٹی بحران کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہے۔