ماہرہ خان کا ذہنی صحت کے حوالے سے اہم پیغام، معاشرے میں آگاہی بڑھانے پر زور

ماہرہ خان کا ذہنی صحت کے حوالے سے اہم پیغام، معاشرے میں آگاہی بڑھانے پر زور

ماہرہ خان نے ذہنی صحت کے مسائل پر کھل کر گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ معاشرے میں اب بھی اس موضوع پر بات کرنا معیوب سمجھا جاتا ہے، حالانکہ ذہنی بیماریاں بھی دیگر جسمانی امراض کی طرح سنجیدہ توجہ اور علاج کی متقاضی ہوتی ہیں۔

لندن میں منعقدہ برٹش ایشین ٹرسٹ کی ایک تقریب کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ماہرہ خان نے کہا کہ ذہنی صحت سے متعلق آگاہی پیدا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ان کے مطابق بہت سے افراد آج بھی اس موضوع پر بات کرتے ہوئے شرمندگی یا جھجک محسوس کرتے ہیں، جس کے باعث وہ بروقت مدد حاصل نہیں کر پاتے۔اداکارہ نے زور دیا کہ ذہنی امراض کو عام طبی مسائل کی طرح سنجیدگی سے لینا چاہیے تاکہ متاثرہ افراد بغیر کسی خوف کے اپنی مشکلات بیان کر سکیں اور درست علاج تک رسائی حاصل کر سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر معاشرے میں اس حوالے سے شعور بڑھایا جائے تو لوگوں کے رویوں میں مثبت تبدیلی آ سکتی ہے۔انہوں نے برطانیہ میں ذہنی صحت اور سماجی بہبود کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہا اور کہا کہ شاہ چارلس کی جانب سے فلاحی سرگرمیوں اور سماجی منصوبوں کی سرپرستی ایک مثبت قدم ہے، جو اہم مسائل کو اجاگر کرنے میں مدد دیتی ہے۔

گفتگو کے دوران ماہرہ خان نے معاشرتی رویوں پر بھی بات کی اور واضح کیا کہ ہراسانی اور تشدد جیسے واقعات کسی صورت قابل قبول نہیں۔ ان کے مطابق ایسے مسائل کے خاتمے کے لیے صرف قوانین نہیں بلکہ اجتماعی سوچ میں تبدیلی بھی ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک محفوظ اور صحت مند معاشرہ اسی وقت تشکیل پا سکتا ہے جب ذہنی صحت، انسانی احترام اور سماجی ذمہ داری جیسے موضوعات پر کھل کر بات کی جائے اور انہیں سنجیدگی سے لیا جائے۔