سال 2026 کے دوران پاکستان کے سرمایہ کاری، برآمدات اور مالیاتی شعبوں میں نمایاں استحکام اور بہتری دیکھنے میں آئی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق مارچ 2026 میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں 163 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد مجموعی سرمایہ کاری 1.35 ارب ڈالر تک پہنچ گئی۔ اسی طرح ترسیلات زر میں بھی اضافہ دیکھا گیا جو بڑھ کر 35.3 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جبکہ سال کے اختتام تک یہ 41 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کے ذریعے سرمایہ کاری کا حجم بھی ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا ہے اور یہ 12.8 ارب ڈالر تک ریکارڈ کیا گیا ہے۔معاشی بہتری کے اس رجحان کے دوران گوگل، آرامکو، بی وائی ڈی، ویون، اے ڈی پورٹس، مشرق بینک اور ترکش پیٹرولیم سمیت کئی بڑی بین الاقوامی کمپنیوں نے پاکستان میں سرمایہ کاری کے اعلانات کیے ہیں۔
اسی عرصے میں پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں 5 لاکھ 45 ہزار نئے سرمایہ کار شامل ہوئے جبکہ 9 نئی کمپنیاں بھی مارکیٹ کا حصہ بنی ہیں۔معاشی ماہرین کے مطابق حکومتی اقدامات، پالیسی تسلسل اور بہتر معاشی منصوبہ بندی نے سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ کیا ہے، جس کے نتیجے میں ملک کے مالیاتی شعبے میں استحکام دیکھنے میں آ رہا ہے۔