بنگلہ دیش کی سابق وزیراعظم شیخ حسینہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ رواں سال دسمبر میں ہر صورت اپنے وطن واپس جائیں گی، چاہے انہیں گرفتاری کا سامنا کرنا پڑے یا اپنی جان کو خطرہ لاحق ہو۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارت میں جلاوطنی کی زندگی گزارنے والی شیخ حسینہ نے اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ عوامی لیگ کے دیگر رہنماؤں کے ساتھ بنگلہ دیش واپسی کا ارادہ رکھتی ہیں اور وطن پہنچ کر کسی بھی قانونی کارروائی کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں۔شیخ حسینہ کا کہنا تھا کہ انہیں معلوم ہے کہ بنگلہ دیش واپسی پر انہیں گرفتار کیا جا سکتا ہے یا ان کی زندگی کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں، تاہم وہ ان خدشات سے خوفزدہ نہیں اور اپنے فیصلے پر قائم ہیں۔انہوں نے کہا کہ عوامی لیگ کو ختم نہیں کیا جا سکتا اور پارٹی کی تنظیم نو کا عمل جاری ہے۔ ان کے مطابق جماعت کے کارکنوں اور رہنماؤں کے ساتھ رابطے برقرار ہیں جبکہ مختلف علاقوں میں ورچوئل اجلاسوں کے ذریعے پارٹی سرگرمیوں کو منظم کیا جا رہا ہے۔شیخ حسینہ 2024 میں بڑے پیمانے پر ہونے والے احتجاج اور سیاسی بحران کے بعد اقتدار سے الگ ہو کر بھارت منتقل ہو گئی تھیں۔ ان کی حکومت کے خاتمے کے بعد بنگلہ دیش میں ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے، جبکہ انہیں ایک مقدمے میں غیر موجودگی میں سزا بھی سنائی جا چکی ہے۔
سابق وزیراعظم نے اپنے خلاف مقدمات کو سیاسی انتقام قرار دیتے ہوئے الزامات مسترد کیے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کارروائیوں کا مقصد انہیں اور ان کی جماعت عوامی لیگ کو سیاسی میدان سے دور کرنا ہے۔دوسری جانب بنگلہ دیشی حکام اور سیاسی مخالفین شیخ حسینہ کے دور حکومت میں انسانی حقوق کی صورتحال، سیاسی مخالفین کے خلاف کارروائیوں اور دیگر معاملات پر الزامات عائد کرتے رہے ہیں، جنہیں سابق وزیراعظم اور ان کے حامی مسترد کرتے ہیں۔سیاسی مبصرین کے مطابق اگر شیخ حسینہ دسمبر میں واقعی بنگلہ دیش واپس آتی ہیں تو یہ ملک کی سیاست میں ایک بڑی پیش رفت ہو گی۔ ان کی واپسی سے سیاسی کشیدگی میں اضافہ ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، جبکہ اس کے اثرات بنگلہ دیش کی داخلی سیاست اور خطے کے سفارتی تعلقات پر بھی پڑ سکتے ہیں۔