تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ بچوں کی جانب سے سوشل میڈیا کا غیر محفوظ اور غیر ذمہ دارانہ استعمال سماجی، نفسیاتی اور سکیورٹی خطرات میں مسلسل اضافہ کر رہا ہے، جس پر ماہرین نے والدین، تعلیمی اداروں اور حکومتوں کو فوری توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
امریکی تحقیقاتی اداروں کی رپورٹس کے مطابق بچوں میں سوشل میڈیا کا ضرورت سے زیادہ استعمال خراب نیند، بے چینی، ڈپریشن اور تعلیمی کارکردگی میں کمی کا باعث بن سکتا ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ کم عمری میں اسکرین ٹائم میں غیر معمولی اضافہ بچوں کی ذہنی، سماجی اور جسمانی نشوونما پر منفی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔رپورٹ کے مطابق سوشل میڈیا بچوں اور نوجوانوں کی دماغی نشوونما، رویوں اور جذباتی صحت پر گہرے اثرات ڈال رہا ہے، جبکہ سائبر مجرم اور منظم جعلساز گروہ بھی مختلف پلیٹ فارمز کے ذریعے بچوں کو نشانہ بنانے اور ان پر اثرانداز ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔دنیا کے مختلف ممالک میں بچوں کے ذہنی دباؤ اور آن لائن خطرات کو کم کرنے کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر عمر کی حد، مخصوص مواد کی پابندی اور دیگر ضابطوں پر غور کیا جا رہا ہے۔اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں 16 سال سے کم عمر بچوں کی تعداد تقریباً 10 کروڑ 98 لاکھ ہے، جن میں بڑی تعداد موبائل فون اور انٹرنیٹ استعمال کرتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بچوں کے محفوظ سوشل میڈیا استعمال کے لیے اسکولوں، والدین اور میڈیا کو آگاہی مہمات کو فروغ دینا چاہیے۔
ماہرین کے مطابق 16 سال سے کم عمر بچوں کے تحفظ کے لیے دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی مؤثر قوانین اور ضابطوں کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا سے متعلق سخت قوانین نہ ہونے کے باعث غلط معلومات، افواہیں، نفرت انگیز مواد اور گمراہ کن پروپیگنڈا تیزی سے پھیلتا ہے۔ماہرین نے یہ بھی نشاندہی کی کہ بلیو وہیل اور مومو چیلنج جیسے خطرناک آن لائن چیلنجز سے وابستہ متعدد خودکشیوں اور نقصان دہ واقعات کی اطلاعات مختلف ممالک میں سامنے آ چکی ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ بچوں کی آن لائن سرگرمیوں کی مؤثر نگرانی، ڈیجیٹل آگاہی اور مناسب قانون سازی وقت کی اہم ضرورت بن چکی ہے