آبنائے ہرمز میں حالیہ کشیدگی اور سکیورٹی خدشات کے باعث خطے کی اہم ترین بحری گزرگاہ پر جہازوں کی آمد و رفت میں غیر معمولی کمی دیکھی جا رہی ہے۔
برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز کے مطابق، 28 فروری سے اب تک یہاں 857 بحری سفر ریکارڈ کیے گئے ہیں، تاہم گزشتہ 7 دنوں کے دوران صرف 21 جہاز اس اہم آبنائے سے گزر سکے ہیں، جو خطے میں جاری کشیدگی کی عکاسی کرتا ہے۔رپورٹ کے مطابق، 6 جولائی کے بعد سے یہاں 16 میزائل حملوں کی اطلاع بھی سامنے آئی ہے، جن میں سے 14 حملے جنوبی عمانی بحری راستے پر کئے گئے، جن سے بحری جہاز اور عملے کے لیے خطرات میں اضافہ ہوا ہے۔ یہ حملے اس اہم تجارتی اور توانائی کی ترسیلی گزرگاہ کو شدید متاثر کر رہے ہیں۔آبنائے ہرمز عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمندری راستہ سمجھا جاتا ہے، اور موجودہ صورتحال کے سبب بحری کمپنیوں کو اپنے جہازوں کی نقل و حرکت، راستوں اور سکیورٹی انتظامات پر نظرثانی کرنا پڑ رہی ہے۔ مسلسل حملوں اور سکیورٹی خدشات نے خطے میں بحری تجارت کے معمولات کو شدید متاثر کیا ہے، جس سے عالمی معیشت بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔