میر شفیق الرحمن مینگل محفوظ رہے ، ،حکومت، عوام اور سکیورٹی اداروں کے عزم کے سامنے دہشت گرد کبھی کامیاب نہیں ہوں ، سرفرازبگٹی
کوئٹہ(آئی این پی )صوبہ بلوچستان کے ضلع خضدار میں پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور ممتاز قبائلی شخصیت میر شفیق الرحمن مینگل کی رہائش گاہ پر خودکش اور مسلح دہشت گرد حملے میں 14 افراد جاں بحق ہوگئے، جن میں 5 پولیس اہلکار بھی شامل ہیں، جبکہ جوابی کارروائی میں 5 حملہ آور جہنم واصل ہوگئے ،حملے میں میر شفیق الرحمن مینگل محفوظ رہے جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں، پولیس اور سیکیورٹی ذرائع کے مطابق حملہ انتہائی منظم انداز میں کیا گیا۔میڈیارپورٹس کے مطابق ابتدائی طور پر ایک خودکش حملہ آور نے رہائش گاہ کے مرکزی گیٹ پر خود کو دھماکے سے اڑا لیا، جس سے داخلی راستہ تباہ ہوگیا۔ اس کے فورا بعد دیگر خودکش اور مسلح حملہ آور گھر کے اندر داخل ہوگئے اور اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔ذرائع کے مطابق سکیورٹی پر مامور اہلکاروں اور حملہ آوروں کے درمیان تقریبا تین گھنٹے تک شدید فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا، جس کے بعد سکیورٹی فورسز نے تمام پانچ حملہ آوروں کو ہلاک کر دیا۔واقعے کے بعد سکیورٹی فورسز، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا، جبکہ جاں بحق اور زخمی افراد کو فوری طور پر سی ایم ایچ اور ٹیچنگ ہسپتال خضدار منتقل کیا گیا۔دریں اثنا وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ امن دشمن عناصر بلوچستان کے امن، استحکام اور عوامی یکجہتی کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں، تاہم حکومت، عوام اور سکیورٹی اداروں کے عزم کے سامنے دہشت گرد کبھی کامیاب نہیں ہوں گیانہوں نے کہا کہ میر شفیق الرحمن مینگل نے جس بہادری، جرات اور ثابت قدمی کے ساتھ دہشت گردوں کا مقابلہ کیا، وہ قابل تحسین ہے اور دہشت گردوں کے سامنے نہ جھکنے کے قومی عزم کی بہترین مثال ہے۔وزیراعلی نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت کی کہ حملے میں ملوث دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کو جلد از جلد گرفتار کرکے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے اور انہیں قرار واقعی سزا دی جائے۔