پاکستان تحریک انصاف کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی سابق اہلیہ جمائما گولڈ اسمتھ نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے بیٹوں قاسم خان اور سلیمان خان کو پاکستان آنے پر گرفتاری کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں، اور انہیں اپنے والد سے بات یا ملاقات کی بھی اجازت نہیں۔
جمائما نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابق ٹوئٹر) پر ایک سخت ردِعمل دیتے ہوئے کہا:"میرے بچوں کو اپنے والد عمران خان سے فون پر بات کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ وہ قریب دو سال سے جیل میں تنہائی کی صعوبتیں برداشت کر رہے ہیں۔ پاکستانی حکومت کہتی ہے اگر وہ ان سے ملنے آئیں گے تو انہیں بھی گرفتار کیا جائے گا۔ یہ کسی جمہوریت یا فعال ریاست میں نہیں ہوتا۔ یہ سیاست نہیں، ذاتی انتقام ہے۔"
قاسم خان کا بیان بھی سامنے آ گیا
جمائما کے بیان کے ساتھ ہی عمران خان کے بیٹے قاسم خان نے بھی ایک ٹویٹ میں کہا:"میرے والد نے 700 دن سے زائد قید میں گزار دیے ہیں، جن میں زیادہ تر وقت تنہائی میں رکھا گیا۔ انہیں وکلا تک رسائی نہیں، نہ ہی خاندان سے ملاقات کی اجازت ہے۔ وہ ہم (بیٹوں) سے مکمل طور پر کٹ چکے ہیں، حتیٰ کہ ان کے ذاتی ڈاکٹر کو بھی ملاقات کی اجازت نہیں دی جاتی۔ یہ انصاف نہیں، بلکہ ایک شخص کو تنہا کرکے توڑنے کی کوشش ہے، جو قانون کی حکمرانی، جمہوریت اور پاکستان کے لیے کھڑا ہوا۔"
پس منظر
عمران خان کو 9 مئی 2023 کے بعد متعدد مقدمات میں گرفتار کیا گیا تھا اور وہ اس وقت اٹک جیل اور بعد ازاں اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ ان پر توہینِ عدالت، سائفر کیس، توشہ خانہ ریفرنس، اور ممنوعہ فنڈنگ سمیت کئی مقدمات چل رہے ہیں۔پی ٹی آئی کا دعویٰ ہے کہ عمران خان کو تنہا رکھا گیا ہے، ان سے نہ خاندان ملاقات کر سکتا ہے، نہ ٹیلیفون پر بات کی اجازت ہے، اور ان کے آئینی و قانونی حقوق کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔
حکومت کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ ردعمل نہیں آیا
جمائما اور قاسم خان کے بیانات پر حکومت یا وزارت داخلہ کی جانب سے تاحال کوئی سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا، البتہ سوشل میڈیا پر اس حوالے سے بحث شدت اختیار کر چکی ہے۔ پی ٹی آئی کے حامی ان بیانات کو انسانی حقوق کی پامالی قرار دے رہے ہیں جبکہ حکومتی حامی خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔
سیاسی و انسانی حقوق کی تنظیموں کی توجہ کا مرکز
یہ الزامات عالمی سطح پر انسانی حقوق کی تنظیموں اور میڈیا کی توجہ حاصل کر سکتے ہیں، خاص طور پر اگر عمران خان کی قید کے حالات، ان کی تنہائی اور ملاقاتوں پر پابندی سے متعلق مزید دستاویزی شواہد سامنے لائے گئے۔