اعجاز چوہدری کی سانحہ 9 مئی کیسز میں ضمانت، لاہور ہائیکورٹ نے شریک ملزمان کی رپورٹ 14 جولائی تک طلب کر لی

اعجاز چوہدری کی سانحہ 9 مئی کیسز میں ضمانت، لاہور ہائیکورٹ نے شریک ملزمان کی رپورٹ 14 جولائی تک طلب کر لی

لاہور: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے مرکزی رہنما اعجاز چوہدری کی جانب سے جناح ہاؤس حملہ کیس سمیت سانحہ 9 مئی کے دیگر چار مقدمات میں ضمانت بعد از گرفتاری کی درخواستوں پر لاہور ہائیکورٹ نے پراسیکیوشن سے شریک ملزمان کی ضمانتوں کی تفصیلات 14 جولائی تک طلب کر لی ہیں۔

دو رکنی بینچ کی سماعت
لاہور ہائیکورٹ کے دو رکنی بینچ جسٹس سید شہباز علی رضوی اور جسٹس اسجد جاوید گھرال نے کیس کی سماعت کی۔ دوران سماعت ڈی ایس پی آصف جاوید تفتیشی ٹیم کے ہمراہ پیش ہوئے۔

پراسیکیوٹر کے دلائل
سرکاری وکیل نے درخواست ضمانتوں کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اعجاز چوہدری سانحہ 9 مئی سے پہلے ایک اہم میٹنگ میں شریک تھے جہاں حساس تنصیبات پر حملے کی منصوبہ بندی کی گئی تھی۔

جسٹس اسجد جاوید گھرال نے استفسار کیا کہ اس میٹنگ میں شریک کتنے ملزمان گرفتار ہیں؟ پراسیکیوٹر نے بتایا کہ:

شاہ محمود قریشی
ڈاکٹر یاسمین راشد
سرفراز چیمہ
میاں محمود الرشید گرفتار ہیں
جبکہ
حماد اظہر سمیت کئی مفرور اور اشتہاری قرار دیے جا چکے ہیں۔
ضمانت سے متعلق سوالات
عدالت نے استفسار کیا کہ کیا کسی شریک ملزم کو بعد از گرفتاری ضمانت ملی ہے؟ سرکاری وکیل نے کہا کہ کسی کو ضمانت نہیں ملی، تاہم اعجاز چوہدری کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ کئی شریک ملزمان کو ٹرائل کورٹ سے ضمانتیں مل چکی ہیں۔

عدالت کے احکامات
جسٹس شہباز علی رضوی نے ہدایت کی کہ:"آئندہ سماعت پر شریک ملزمان میں سے کتنے کی ضمانتیں منظور ہوئیں، کتنی خارج ہوئیں، اس کی تفصیلات پیش کی جائیں۔"
پس منظر
اعجاز چوہدری کی انسدادِ دہشتگردی عدالت (اے ٹی سی) لاہور سے ضمانت کی درخواستیں خارج ہو چکی ہیں، جس کے بعد انہوں نے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا ہے۔عدالت نے کیس کی مزید سماعت 14 جولائی تک ملتوی کر دی ہے۔