غزہ میں 7 اکتوبر 2023 سے اسرائیلی افواج کی بربریت کا سلسلہ بدستور جاری ہے، اور حالیہ 24 گھنٹوں میں شہداء کی تعداد 50 سے تجاوز کر گئی ہے۔
غیر ملکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق غزہ کے المواصی پناہ گزین کیمپ پر اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں 20 سے زائد فلسطینی شہید ہو گئے۔ بمباری کے باعث بے گھر فلسطینیوں کے خیموں میں آگ بھڑک اُٹھی، جہاں 14 سے زائد فلسطینی خاندان موجود تھے۔مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج کی چھاپہ مار کارروائیاں بھی جاری ہیں، جن سے فلسطینیوں کی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ یو این جنرل اسمبلی نے غزہ میں جاری ظلم و ستم کے خاتمے کی ضرورت پر زور دیا ہے اور کہا کہ سلامتی کونسل اس معاملے میں مفلوج ہو چکی ہے، جس کی وجہ سے عالمی امن و سلامتی کے مسائل حل نہیں ہو پا رہے۔
اسرائیلی وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے غزہ میں جنگ بندی کے امکانات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ حماس پر بڑھتے ہوئے دباؤ کے باعث ممکنہ طور پر آئندہ مذاکرات میں جنگ بندی پر اتفاق ہو سکتا ہے۔ دوسری جانب لبنان میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان میں تین چھاپہ مار کارروائیاں کی ہیں، جو صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہیں۔