ٹک ٹاک پر ویمن یونیورسٹی کی ویڈیو شیئر کرنے پر پشاور ہائیکورٹ کا ایکشن، ڈی سی صوابی اور وائس چانسلر طلب

ٹک ٹاک پر ویمن یونیورسٹی کی ویڈیو شیئر کرنے پر پشاور ہائیکورٹ کا ایکشن، ڈی سی صوابی اور وائس چانسلر طلب

پشاور ہائیکورٹ نے ویمن یونیورسٹی صوابی کی ویڈیو کو ٹک ٹاک پر شیئر کرنے کے معاملے پر کارروائی کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر صوابی اور ویمن یونیورسٹی کی وائس چانسلر کو 23 جولائی کو ذاتی حیثیت میں عدالت میں پیش ہونے کا حکم دے دیا۔

کیس کی سماعت:
کیس کی سماعت جسٹس صاحبزادہ اسد اللہ اور جسٹس ڈاکٹر خورشید اقبال پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کی۔درخواست گزار کے وکیل محمد حمدان ایڈووکیٹ نے مؤقف اختیار کیا کہ:"ڈپٹی کمشنر نے بغیر اجازت یونیورسٹی کی ویڈیو اپنے ذاتی ٹک ٹاک اکاؤنٹ پر اپ لوڈ کی،جس سے طالبات کی پرائیویسی متاثر ہوئی۔"
قانونی نکات:
وکیل نے عدالت کو بتایا کہ:"سرکاری افسران کو صرف ایکس (ٹوئٹر) اور فیس بک استعمال کرنے کی اجازت ہے،جس کا نوٹیفکیشن 2018 میں جاری ہوا تھا۔"ویڈیو اپلوڈ کرنے کا عمل نہ صرف غیر قانونی ہے بلکہ اخلاقی حدود کی بھی خلاف ورزی ہے،جس پر طالبات اور علاقہ مکینوں نے اعتراض کیا۔
عدالت کے ریمارکس:
عدالت نے استفسار کیا کہ ویمن یونیورسٹی کا مؤقف کیا ہے اور وائس چانسلر عدالت میں پیش کیوں نہیں ہوئیں؟ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے مؤقف اپنایا کہ حکومتی جواب جمع کرایا جا چکا ہے۔
آئندہ کارروائی:
عدالت نے وائس چانسلر ویمن یونیورسٹی اور ڈپٹی کمشنر صوابی کو ذاتی حیثیت میں طلب کرتے ہوئے
کیس کی اگلی سماعت 23 جولائی کو مقرر کر دی۔