پشاور ہائیکورٹ نے ڈی سی صوابی کو ٹک ٹاک ویڈیوز شیئر کرنے پر نوٹس جاری کر کے جواب طلب کر لیا ہے۔
درخواست میں الزام عائد کیا گیا کہ ڈی سی صوابی نے بغیر اجازت کے ویمن یونیورسٹی صوابی میں سپورٹس گالا کے دوران ٹک ٹاک ویڈیوز بنائیں اور ان ویڈیوز کو اپنے آفیشل پیج پر شیئر کر دیا، جس سے خواتین کی پرائیویسی متاثر ہوئی۔درخواست گزار کے وکیل نے مزید کہا کہ رمضان کے مہینے میں بھی ڈی سی صوابی نے ٹک ٹاک ویڈیوز انڈین اور پشتو گانوں کے ساتھ شیئر کیں اور اپنی ذاتی تشہیر کی، جسے اختیارات کا غلط استعمال قرار دیا گیا۔ وکیل نے عدالت سے درخواست کی کہ ڈی سی صوابی کو اس عمل سے روکا جائے اور ان ویڈیوز کو آفیشل پیج سے ڈیلیٹ کر دیا جائے۔عدالت نے ابتدائی دلائل کے بعد ڈی سی صوابی کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کیا ہے۔