بحیثیت کمانڈر اِن چیف فیصلہ کرنے والا خود ہی ہوں، جو واحد چیز مجھے روک سکتی ہے وہ میری اپنی اخلاقیات اور میرا اپنا دماغ ہے‘امریکہ روس جوہری معاہدہ ختم ہوتا ہے تو ہونے دیں، مستقبل کے معاہدے میں چین کو شامل کیا جانا چاہیے
چین تائیوان میں کیا اقدام کرتا ہے یہ چینی صدر پر منحصر ہے، تائیوان پر چین کی جانب سے کسی کارروائی سے خوش نہیں ہوں گا‘ امید ہے میرے دور میں چین تائیوان کے خلاف کارروائی نہیں کرے گا:نیویارک ٹائمز کو انٹرویو
واشنگٹن (آئی این پی )امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے دنیا کے تمام ممالک پر امریکی فوجی حملے کا حکم دینے کا اختیار رکھتا ہوں، میرے دورصدارت میں چین تائیوان پر فوجی کارروائی نہیں کر یگا، امریکا روس جوہری معاہدہ ختم ہوتا ہے تو ہونے دیں، مستقبل کے معاہدے میں چین کو شامل کیا جانا چاہیے۔ نیویارک ٹائمز کو دئیے گئے انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ دنیا بھر کے ممالک پر امریکی فوجی حملے یا جارحیت کا حکم دینے کا مکمل اختیار رکھتا ہوں۔ ٹرمپ نے کہا بحیثیت کمانڈر اِن چیف اپنے اختیارات کی حد کا فیصلہ کرنے والا میں خود ہی ہوں، جو واحد چیز مجھے روک سکتی ہے وہ میری اپنی اخلاقیات اور میرا اپنا دماغ ہے۔ ٹرمپ نے ایک سال سے زائد عرصے تک وینزویلا کے معاملات چلانے اور تیل پر قبضہ رکھنے کے عزائم کا اظہار بھی کیا۔امریکی صدر نے بتایا کہ اگرچہ تائیوان کے مسئلے پر چین کے اپنے خیالات ہیں، چینی صدر شی جن پنگ کے خیال میں تائیوان چین کا حصہ ہے تاہم وہ نہیں سمجھتے شی جن پنگ ان کے دورِ صدارت میں تائیوان پر فوجی کارروائی کریں گے۔صدر ٹرمپ نے کہا چین تائیوان میں کیا اقدام کرتا ہے یہ چینی صدر پر منحصر ہے، تائیوان پر چین کی جانب سے کسی کارروائی سے خوش نہیں ہوں گے، انہوں نے ساتھ ہی امید ظاہر کی کہ چین تائیوان کے خلاف کارروائی نہیں کرے گا۔امریکا روس جوہری معاہدے سے متعلق بیان پر امریکی صدر نے کہا کہ امریکا روس جوہری معاہدہ ختم ہوتا ہے تو ہونے دیں، مستقبل کے معاہدے میں چین کو شامل کیا جانا چاہیے۔