ہربنس پورہ مہر فیاض کالونی میں سمیرا ،عائشہ، صباء اور پانچ نامعلوم افراد پولیو ٹیم کے بچی کو قطرے پلانے کی درخواست پر مشتعل ہوگئے
شاہدرہ میں خاتون پولیو انچارج عارفہ کوطاہر چمن کالونی میںنعیم کی بیوی ماریہ نے زدوکوب کیا، مقدمات درج ،گرفتاری کے لیے چھاپے
لاہور (کرائم رپورٹر)صوبائی دارالحکومت میں پولیو کے خاتمے کے لیے سرگرم ٹیموں پر تشدد کے دو الگ الگ واقعات پیش آئے۔ جن میں خواتین سمیت متعدد افراد نے پولیو ورکرز اور پولیس اہلکاروں کو تشدد کا نشانہ بنایا۔ پولیس نے دونوں واقعات کے مقدمات درج کر کے کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔پہلا واقعہ تھانہ ہربنس پورہ کے علاقے میں پیش آیا جہاں پولیو ٹیم انچارج یوسی 44 ندیم اشرف اپنی ٹیم کے ارکان مبین اور رابعہ کے ہمراہ بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے مہر فیاض کالونی پہنچے۔ ایف آئی آر کے مطابق پولیو ٹیم نے سمیرا بی بی کے گھر بچی کو پولیو کے قطرے پلانے کی درخواست کی جس پر خاتون نے انکار کرتے ہوئے ٹیم کو وہاں سے جانے کا کہا۔ بعد ازاں سمیرا بی بی نے گھر سے مزید خواتین عائشہ، صباء اور پانچ نامعلوم افراد کو بلا لیا جنہوں نے پولیو ٹیم پر تشدد کیا۔اطلاع ملنے پر پولیس موقع پر پہنچی تو مشتعل افراد نے پولیس اہلکاروں کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا اور سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں۔ تھانہ ہربنس پورہ پولیس نے پولیو ٹیم انچارج ندیم اشرف کی مدعیت میں ملزمان کے خلاف کارِ سرکار میں مداخلت اور دیگر سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔دوسرا واقعہ شاہدرہ کے علاقے میں پیش آیا جہاں خاتون پولیو انچارج عارفہ طاہر اپنی ٹیم کے ہمراہ چمن کالونی میں نعیم کے گھر بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے گئی۔ ایف آئی آر کے مطابق نعیم کی بیوی ماریہ اور اس کے بچوں نے پولیو ٹیم کو قطرے پلانے سے منع کیا اور بعد ازاں ٹیم کو زدوکوب کیا۔واقعے کے بعد تھانہ شاہدرہ پولیس نے پولیو انچارج عارفہ طاہر کی مدعیت میں کارِ سرکار میں مداخلت سمیت دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے جبکہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔