پاکستان کی آزادی کے بعد افغانستان نے2 بار حملہ کیا:خواجہ آصف

نائن الیون کی تحقیقات کا آج تک پتہ نہیں چلا ‘ اس میں افغان، پشتون یا ہزارہ ملوث نہیں تھے‘ہم نے 2 کرائے کی جنگیں لڑیں پھر استعمال کر کے پھینک دیا گیا
پاکستان کوتسلیم کرنے والے ممالک میں افغانستان آخری نمبر پر تھا‘بھیک مانگنا منظم کاروبار اور باقاعدہ پروفیشن بن چکا :قومی اسمبلی میں خطاب‘ایکس پر بیان
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک‘آئی این پی) وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے  نائن الیون میں میں ملوث عناصر کا آج تک پتہ نہیں چل سکا، سانحہ میں کوئی افغان، پشتو یا ہزارہ ملوث نہیں تھا مگر ہم نے اس واقعے کے بعد کرائے کی جنگ لڑی اور پھر ہمیں استعمال کر کے پھینک دیا گیا۔قومی اسمبلی اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا  اپوزیشن لیڈر  اور راجہ پرویز اشرف کی باتوں سے کوئی زیادہ اختلاف نہیں ہے، ایک دور میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان کوئی ویزہ نہیں ہوتا تھا اجازت نامے پر جاتے تھے، میں خود بھی بغیر ویزہ افغانستان گیا تھا۔ ہم افغانستان کی زمین پر لڑی جانے والی دو جنگوں کے فریق بنے، روسی افغانستان کی دعوت پر وہاں آئے تھے جس کے خلاف کوئی جہاد نہیں تھا۔انہوں نے کہا پاکستان بننے کے بعد افغانستان نے د و بار حملہ‘پاکستان کوتسلیم کرنے والے ممالک میں افغانستان آخری نمبر پر تھا‘انہوں نے نے کہا  آج تک ہم اپنا نصاب واپس نہیں لا سکے اور اپنی پوری تاریخ تبدیل کی، امریکیوں نے ہمیں چھوڑ دیا لیکن ہمیں عقل نہیں آئی۔دریں اثناء  سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے پیغام میں وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا  بھیک مانگنا منظم کاروبار اور باقاعدہ پروفیشن بن چکا ہے۔ اس کاروبار کے ٹھیکیدار بچوں، عورتوں اور جعلی معذوروں سے کروڑوں روپے کماتے ہیں، یہی مافیا ہزاروں بھیک مانگنے والوں کو گلف ممالک میں ایکسپورٹ کر رہا ہے، جس کے باعث ان ممالک نے پاکستانی ویزے بند کر دیئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ گھنائونے کاروبار میں ایئرپورٹس پر تعینات مختلف محکموں کا عملہ بھی برابر کا حصہ دار ہے۔ان کا کہنا تھا کہ سیالکوٹ میں زیادہ تر افراد جنوبی پنجاب سے آ کر ہوٹلوں میں قیام کرتے ہیں اور بھیک مانگتے ہیں، اگرچہ انتظامیہ اور پولیس کی کارروائیوں سے اس کاروبار میں کمی آئی ہے مگر اب بھی ان کی موجودگی نظر آتی ہے۔