ہالی ووڈ کے مشہور اداکار ٹام کروز نے انکشاف کیا ہے کہ فلم مشن امپاسیبل کی شوٹنگ کے دوران وہ کئی مرتبہ بے ہوش ہو گئے تھے۔
خطرناک اسٹنٹس اور مشکلات
حال ہی میں دیے گئے ایک انٹرویو میں ٹام کروز نے فلم کے دوران کیے گئے خطرناک اسٹنٹس پر بات کی۔ انہوں نے کہا کہ مشن امپاسیبل کے ایک خاص سین کے لیے انہیں فضا میں تیز رفتاری سے اڑتے ہوئے ہوائی جہاز سے اپنا چہرہ باہر نکالنا تھا۔انہوں نے وضاحت کی کہ جب کوئی انسان 120 سے 130 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والے جہاز سے اپنا چہرہ باہر نکالتا ہے، تو اتنی بلندی پر آکسیجن کی کمی ہوجاتی ہے، جس کی وجہ سے سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے۔
ٹریننگ اور بے ہوشی کے واقعات
اداکار کے مطابق، انہیں اس خطرناک اسٹنٹ کے لیے خصوصی ٹریننگ لینی پڑی تاکہ وہ اتنی بلندی پر سانس لینے کی تکنیک سیکھ سکیں۔ تاہم، شوٹنگ کے دوران کئی بار ایسا ہوا کہ وہ آکسیجن کی کمی کی وجہ سے بے ہوش ہوگئے اور کاک پٹ میں واپس جانے کے قابل بھی نہ رہے۔
ہدایتکار کا انکشاف
فلم کے ہدایتکار کرسٹوفر مک کوئری نے بھی بتایا کہ مشن امپاسیبل کی اس نئی قسط میں پہلے سے زیادہ خطرناک اسٹنٹس شامل کیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس بار فلم میں کچھ ایسے اسٹنٹس ہیں، جو فلمی شائقین کو دنگ کر دیں گے۔
ٹام کروز کے خطرناک اسٹنٹس
ٹام کروز ہالی ووڈ میں اپنے اسٹنٹس خود کرنے کی وجہ سے مشہور ہیں۔ وہ ہیلی کاپٹر اڑانے، اونچی عمارتوں سے چھلانگ لگانے، اور برق رفتار گاڑیاں چلانے جیسے خطرناک اسٹنٹس خود کرنے میں مہارت رکھتے ہیں، جو ان کی فلموں کو مزید حقیقت پسندانہ بنا دیتے ہیں۔
مشن امپاسیبل کی آخری قسط کب ریلیز ہوگی؟
واضح رہے کہ مشن امپاسیبل سیریز کی آخری انسٹالمنٹ اس سال مئی میں سنیما گھروں کی زینت بنے گی، جس میں ٹام کروز کے مزید دل دہلا دینے والے اسٹنٹس دیکھنے کو ملیں گے۔