فضل الرحمن محمود اچکزئی حکومت مخالف تحریک پر ایکا
بانی پی ٹی آئی کو رہائی ملنی چاہیے، چارماہ کیلئے قومی حکومت بنا دی جائے،بڑی جماعتیں ملکرمسائل کا حل نکال سکتی ہیں :محمود اچکزئی،موجودہ پارلیمنٹ کی کوئی حیثیت نہیں : فضل الرحمن،گرینڈ اپوزیشن الائنس اپنے آخری مراحل میں ہے: فواد چودھری
اسلام آباد( مانیٹرنگ ڈیسک ) جے یو آئی ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمن ،پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے حکومت کے خلاف مشترکہ تحریک کا عندیہ دیدیا،محمود خان اچکزئینے کہا ہے کہ جب بھی عوامی تحریک شروع ہوگئی مولانا فضل الرحمن اس میں شامل ہوں گے۔محمود خان اچکزئی کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کوضمانت پر رہائی ملنی چاہیے، نوازشریف، مولانا فضل الرحمان، پیپلزپارٹی، تحریک انصاف ملکر مسائل کا حل نکال سکتی ہیں۔ انہوں نے تجویز دیتے ہوئے کہا کہ چارماہ کے لیے قومی حکومت بنا دی جائے۔مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ موجودہ پارلیمنٹ کی کوئی حیثیت نہیں ، آپ نے رجسٹریشن کے نام پر بینک اکائونٹ بند کرنے کی سازش کی، جعلی پارلیمنٹ دھاندلی کے ذریعہ وجود میں آئی۔گزشتہ سال آٹھ فروری کو بدترین دھاندلی کی گئی، پوری دنیا میں امریکا کو طاقتور سمجھا جا رہا ہے، ٹرمپ دنیا کا سب سے بڑا پاگل ہے۔ جب تک میری طاقت زندہ ہے کسی کا باپ بھی قادیانیت نہیں لاسکتا، بپھرے عوام سڑکوں پر آئیں گے تو جعلی ایوانوں میں زلزلہ برپا ہوگا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ جنگ عظیم کے بعد یہودیوں نے مار کھائی، دربدر ہوگئے، قادیانیت یہودیوں کی پیداوار ہے، ہم نے اپنی جدوجہد نہیں چھوڑی، ہم سیاسی جہاد کے راستے پر قائم ہیں، میدان میں رہیں گے اور تمہارے ایوانوں تک پہنچیں گے۔سابق وفاقی وزیر فواد چودھری نے کہا ہے کہ ملک میں موجودہ سیاسی عدم استحکام عوامی انتخابی فیصلے کو نہ ماننے کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق اس عدم استحکام کی وجہ سے ملک بھر میں احتجاج جاری ہے اور اس کا واحد حل تمام سیاسی قوتوں کا مل کر بیٹھنا ہے۔جہلم میں گفتگو کرتے ہوئے فواد نے کہا کہ عمران خان کی سیاسی حیثیت کو بندوق کی نوک پر تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے حکومت کو مشورہ دیا کہ وہ گرینڈ اپوزیشن الائنس کے ساتھ مذاکرات کرے تاکہ موجودہ بحران سے نکلا جا سکے۔فواد نے بتایا کہ گرینڈ اپوزیشن الائنس اپنے آخری مراحل میں ہے اور جلد عوام کے سامنے ہوگا۔ اس اتحاد میں مولانا فضل الرحمن، محمود خان اچکزئی، شاہد خاقان عباسی اور دیگر رہنما شامل ہیں۔انہوں نے حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر مذاکرات کرنے ہیں تو اس کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا ہوگا۔مذاکرات اسی وقت ممکن ہوتے ہیں جب سیاسی ماحول کو بہتر بنایا جائے لیکن اگر گرفتاریاں جاری رہیں اور مخالفین کو جیلوں میں ڈالا جاتا رہا تو بات چیت ممکن نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کی ذمہ داری ہے کہ وہ سیاسی درجہ حرارت کو نیچے لائیں اور اپوزیشن کے ساتھ باضابطہ مذاکرات کا آغاز کریں۔