تجارتی ٹیرف بڑا چیلنج، طاقتور بحریہ سمندری تجارت کے تحفظ کی ضامن :خواجہ آصف

موجودہ دور میں میری ٹائم سکیورٹی انتہائی اہمیت اختیار کر چکی ہے،درپیش غیر روایتی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے اجتماعی اقدامات ناگزیر ہیں،وزیر دفاع
 امن ڈائیلاگ مشرق اورمغرب کے درمیان پل کا کردارادا کررہا ہے،ایڈمرل نوید اشرف ، ا من مشق کے تیسرے روزامن ڈائیلاگ سے خطاب 
 کراچی (آئی این پی ) وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ طاقتور بحریہ سمندری تجارت کے تحفظ کی ضامن ہے، موجودہ دور میں میری ٹائم سکیورٹی انتہائی اہمیت اختیار کر چکی ہے، کیوں کہ عالمی معیشت کا زیادہ تر انحصار سمندری تجارت پر ہے، دنیا اس وقت بڑی معاشی تبدیلیوں سے گزر رہی ہے، اور تجارتی ٹیرف ایک بڑا چیلنج بن کر سامنے آیا ہے۔ تفصیل کے مطابق کراچی میں پاک بحریہ کی امن مشقوں 2025 کے تیسرے روز امن ڈائیلاگ کا انعقاد کیا گیا، جس میں مشترکہ سمندری خطرات اور ماحولیاتی تبدیلیوں کے میری ٹائم سکیورٹی پر اثرات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیر دفاع خواجہ آصف تقریب کے مہمان خصوصی تھے۔اپنے خطاب میں وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ سمندری تجارت کا تحفظ تمام اقوام کی اجتماعی ذمہ داری ہے، اور ایک طاقتور بحریہ ہی سمندری راستوں کو محفوظ بنا سکتی ہے، پاک بحریہ علاقائی سلامتی اور عالمی امن کے لیے کلیدی کردار ادا کر رہی ہے، جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت جیسے عوامل عالمی منظرنامے کو تیزی سے بدل رہے ہیں، اور بحری شعبے میں درپیش روایتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اجتماعی اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں۔خواجہ آصف نے مزید کہا کہ بحرِ ہند میں دنیا کے 50 فیصد تیل اور گیس کے ذخائر موجود ہیں، اور ان وسائل کا تحفظ عالمی معیشت کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے سمندری تحفظ اور تجارت کو مضبوط بنانے کے لیے مشترکہ عالمی کاوشوں پر زور دیا۔ دنیا بڑی معاشی تبدیلیوں سے گزررہی ہے، تجارتی ٹیرف ایک بڑاچیلنج بن کر سامنے آیاہے، یہ ہمارا اجتماعی فرض ہے کہ سمندری تجارت کے تحفظ کیلئے مشترکہ کوششیں کریں۔انہوں نے کہا کہ عالمی معاشی نظام میری ٹائم پر انحصار کرتا ہے، بحرہند عالمی تیل اور گیس کے 50فیصد ذخائر رکھتا ہے، بحری تجارت کا معیشت میں بنیادی کردار ہے، بحری شعبے میں درپیش غیر روایتی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے اجتماعی اقدامات ناگزیر ہیں۔ اس موقع پر پاک بحریہ کے سربراہ ایڈمرل نوید اشرف نے امن ڈائیلاگ میں شریک معزز مہمانوں کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ اس مکالمے کا مقصدمیری ٹائم سکیورٹی کو لاحق خطرات سے آگاہی دینا ہے، امن ڈائیلاگ کے ذریعے بلیو اکانومی کو فروغ دیناہے، امن ڈائیلاگ مشرق اورمغرب کے درمیان ایک پل کا کردارادا کررہا ہے۔ سینیٹر مشاہد حسین سید نے خطاب میں کہا کہ پاکستان نیوی شریک ملکوں کے درمیان تجارت اورروابط کے فروغ کیلئے کوشاں ہے۔