کراچی میں فلیٹ سے 3 خواتین کی لاشیں برآمد، گھر کے سربراہ کا حساس خط بھی منظر عام پر آ گیا

کراچی میں فلیٹ سے 3 خواتین کی لاشیں برآمد، گھر کے سربراہ کا حساس خط بھی منظر عام پر آ گیا

گلشن اقبال میں ایک افسوسناک واقعہ میں ایک فلیٹ سے ماں، بیٹی اور بہو کی لاشیں برآمد ہوئیں، جبکہ بیٹا بے ہوشی کی حالت میں ملا گیا ہے۔

 پولیس تفتیشی حکام کے مطابق فلیٹ سے زہریلی اشیاء اور چوہے مار ادویات کا محلول بھی ملا ہے، جن کی وجہ سے خواتین کی موت کی وجوہات کاپوسٹ مارٹم رپورٹ آنے کے بعد ہی معلوم ہوسکے گا۔تفصیلات کے مطابق، واقعے سے قبل گھر کے سربراہ اقبال اور بہو ماہا نے اپنے آخری خطوط لکھے، جن میں اقبال نے ایک شخص، علی عطاری، کو رقم دینے اور دیگر اہم ہدایات کا ذکر کیا ہے۔ اقبال کا لکھا ہوا خط 12 دسمبر 2025 کی تاریخ کے ساتھ ہے، جس میں انہوں نے رقم عبدالقادر سے ملنے کے بعد تدفین وغیرہ پر خرچ کرنے کا کہا ہے۔

پولیس کے مطابق، اقبال نے یہ خط لکھا ضرور، مگر بھیجا نہیں۔ بیٹے یاسین کا بیان بھی قلمند کیا گیا، جس میں اس نے بتایا کہ وہ زہریلی اشیا جوس میں ملا کر پی لی تھی تاکہ قرضوں سے بچ سکے، کیونکہ اہل خانہ پر ایک کروڑ سے زائد کا قرض تھا۔پولیس تفتیش جاری ہے اور پوسٹ مارٹم رپورٹ کا انتظار ہے تاکہ موت کی اصل وجوہات کا تعین کیا جا سکے۔