وزیراعظم مرکزیت، ہم ڈی سینٹرلائزیشن پر یقین رکھتے ہیں معیشت کو ڈنڈے سے نہیں چلایا جاسکتا بلاول بھٹو

 قومی اسمبلی میں نئے صوبے بنانے کیلئے اتفاق رائے ہے،20نئے صوبے بنانے سے پہلے جن نئے صوبوں پر اتفاق  ہے وہاں بنائیں، پاکستان پیپلزپارٹی کی خوبی رہی ہے ہم جمہوری بھی رہے اور گورنر راج بھی لگائے
وفاقی حکومت کی معاشی مشکلات دور کرنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے ‘ کسی ایک  صوبے کو  نہیں‘ تمام صوبوں کو اس ذمہ داری کو  نبھانا چاہیے ‘ عوام کے لئے مہنگی  بجلی کے حوالے سے  مشکلات ختم کریں گے 
وزیراعظم اور  ٹیم ملکی معیشت کی بہتری اور تاجر برادری کے مسائل کے حل کیلئے اہم کردار اداکر رہی  ہے،  ایف بی آر کو تمام صوبوں کی نمائندگی کے ساتھ وفاقی ادارہ بننا چاہیے :لاہور میں تقریب سے خطاب ‘سینیئر صحافیوں سے گفتگو
لاہور (خصوصی رپورٹر‘ایجنسیاں)  چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے  ملکی معیشت ڈنڈے کے زور پر نہیں پیار سے چل سکتی ہے ‘زیراعظم سینٹرلائزیشن، ہم ڈی سینٹرلائزیشن پر یقین رکھتے ہیں‘ وزیراعظم اور انکی ٹیم ملکی معیشت کی بہتری اور تاجر برادری کے مسائل کے حل کے لئے اہم کردار اداکر رہی  ہے  ۔ وفاق کے مسائل کا حل تمام صوبوں کی  ذمہ داری ہے ، ایف بی آر کو تمام صوبوں کی نمائندگی کے ساتھ وفاقی ادارہ بننا چاہیے ۔ پیپلز پارٹی ڈی سینٹرلائزیشن پالیسی کی حامی ہے ۔ ٹیکس  کلیکشن کی ذمہ داری صوبوں کو  دئیے جانے کے خواہاں ہیں ۔ لاہورمیں ایف پی سی سی سی آئی کی تقریب سے خطاب کرتے  ہوے انہوں نے کہا  تاجر برادری  کا معیشت میں اہم کردار ہے۔   پیپلز پارٹی اور تاجر برادری کی ایک تاریخ ہے ۔ ہماری جماعت بزنس کمیونٹی کو سہولیات  فراہم کرنے کی  حامی ہے  ۔ ہم تاجروں کے مسائل کے حل تک  کردار ادا کرتے رئیں گے ۔  انہوں نے کہا کہ  بزنس کمیونٹی کی مثبت تجاویز کا خیر مقدم کرتا ہوں۔ تاجر برآمدات بڑھانے کی کوشش کر رہے  ہیں  اور ہم اسکے حامی ہیں ۔  ہم ایف پی سی سی آئی ایڈوائزری گروپ  کے ساتھ مل کر کام کریں گے ۔  انہوں نے کہا کہ   پاکستان کے لئے  بڑے  فخر کی بات ہے کہ چین جیسا ملک ہمارے ساتھ کام کر رہا ہے ۔  چین پاکستانی اشیا کو اپنے ملک میں متعارف کرانا چا ہتا ہے ۔ ہمیں سوچنا ہے کہ چین کے ساتھ ہم کیسے  اپنے  آئٹمز کی تعداد کو بڑھائیں ۔  چین پاکستان بہترین دوست ملک ہے  جو ہمارے ساتھ تمام شعبوں میں تعاون کو فرغ دے  رہا ہے ۔  ا نہوں نے  وزیراعظم کو سرہاتے ہوے کہا کہ  وزیراعظم اور  اور انکی ٹیم ملکی معیشت کی بہتری کے لئے بہت محنت کر رہی ہے ، وزیراعظم  تاجر برا دری کے لئے بھی  بہت  اچھی سوچ رکھتے  ہیں  وہ انکے مسائل کے حل کے لئے کوشاں ہیں ‘  وفاقی حکومت کی معاشی مشکلات دور کرنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے ۔  کوئی ایک  صوبہ نہیں تمام صوبوں کو اس ذمہ داری کو  نبھانا چاہیے ۔  عوام کے بجلی کے مسائل  پر بات کرتے ہوے انہوں نے کہا  ہم مفت بجلی یونس کو سولر میں تبدیل کر کے  قیمت کم کر سکتے ہیں    ہم اس کا گرین سلوشن نکالیں گے ۔ عوام کی بجلی کے حوالے سے  مشکلات ختم کریں گے ۔دریں اثناء گورنر ہائوس میں سینئرصحافیوںسے گفتگو  کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا 20 نئے صوبے بنانے سے پہلے جن نئے صوبوں پر اتفاق رائے ہے وہاں بنائیں۔ قومی اسمبلی میں نئے صوبے بنانے کے لیے اتفاق رائے موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ 20 صوبے بنانے سے پہلے جہاں نئے صوبے بنانے سے متعلق اتفاق رائے موجود ہے پہلے وہاں بنائیں، اس وقت ہماری اکثریت نہیں تھی جب نئے صوبے بنانے پر اتفاق ہوا تھا۔چیئرمین پی پی پی نے کہا کہ جو ان کی اپنی تجاویز ہے اس پر عمل درآمد ہونا ہے تو فوری کریں، جو کام ہونا تھا وہ تو ہو ہی رہا ہے