پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما شوکت یوسفزئی نے کہا ہے کہ اگر حکومت نے سنجیدہ مذاکرات کا آغاز نہ کیا تو 14 دسمبر سے سول نافرمانی کا اعلان کیا جائے گا۔
احتجاج اور مذاکرات کی حکمت عملی
پشاور سے جاری بیان میں شوکت یوسفزئی نے کہا کہ پی ٹی آئی نے حکومت کے ساتھ مذاکرات اور احتجاج کے لیے حکمت عملی وضع کر لی ہے، اور احتجاج کا سلسلہ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک نتیجہ خیز مذاکرات نہیں ہوتے۔ پی ٹی آئی رہنما نے بتایا کہ عمر ایوب کی سربراہی میں 5 رکنی مذاکراتی کمیٹی نے لائحہ عمل تیار کر لیا ہے، جس کا اعلان جلد کیا جائے گا۔
مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھنے کا عزم
شوکت یوسفزئی نے کہا کہ پارٹی نے احتجاجی تحریک شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے، تاہم مذاکرات کا دروازہ بند نہیں ہوگا اور تمام فریقین سے بات چیت کی جائے گی۔ پی ٹی آئی اپنی جدوجہد کو پارلیمنٹ کے اندر اٹھانے کے خواہش مند ہیں، مگر اگر حکومت سنجیدہ مذاکرات نہیں کرتی تو 14 دسمبر سے سول نافرمانی کی تحریک شروع کر دی جائے گی۔
پی ٹی آئی رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف مقدمات
پی ٹی آئی رہنما نے یہ بھی کہا کہ پارٹی کے رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف جعلی مقدمات درج کیے جا رہے ہیں اور انہیں عدالتوں کے چکر لگانے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ شوکت یوسفزئی نے اس بات کو بھی سختی سے مسترد کیا کہ پی ٹی آئی کو دہشت گرد قرار دینا جمہوریت کی نفی ہے۔
گورنر راج کی دھمکیاں
انہوں نے مزید کہا کہ وفاقی وزراء صوبے میں گورنر راج کے نفاذ کی دھمکیاں دے رہے ہیں، لیکن پی ٹی آئی اپنے مطالبات سے پیچھے نہیں ہٹے گی اور حکومتی اقدامات کے خلاف اپنی سیاسی جدوجہد جاری رکھے گی۔
نتیجہ
شوکت یوسفزئی کی اس بیان سے پی ٹی آئی کی جانب سے حکومت کے ساتھ مذاکرات اور احتجاج کی حکمت عملی واضح ہوتی ہے۔ پارٹی نے حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ سنجیدہ مذاکرات کے لیے آگے بڑھے ورنہ پی ٹی آئی کا احتجاج اور سول نافرمانی کی تحریک تیز ہو جائے گی۔