پی ٹی آئی کے مذاکرات کے لیے 2 مطالبات: شوکت یوسفزئی

پی ٹی آئی کے مذاکرات کے لیے 2 مطالبات: شوکت یوسفزئی

پشاور: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما شوکت یوسفزئی نے حکومت کے ساتھ مذاکرات کی شرائط واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ تحریک انصاف کے دو بنیادی مطالبات کی منظوری کے بغیر مذاکرات آگے نہیں بڑھ سکتے۔

اہم نکات:
دو مطالبات:

بے گناہ سیاسی کارکنوں کی رہائی۔9 مئی اور 26 نومبر کے واقعات کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن کا قیام۔
مذاکرات کی شرائط:
شوکت یوسفزئی نے کہا کہ تحریک انصاف نے مذاکرات کو آگے بڑھانے کے لیے اپنا ایجنڈا فائنل کر لیا ہے۔ انہوں نے کہا، "اگر حکومت ان مطالبات کو تسلیم نہیں کرتی، تو مذاکرات میں پیش رفت ممکن نہیں ہوگی، اور تحریک انصاف اپنے موقف پر قائم رہے گی۔"
سول نافرمانی تحریک:
انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی طرف سے سول نافرمانی کی تحریک برقرار ہے۔ تاہم، اگر حکومت ان مطالبات پر عمل درآمد یقینی بناتی ہے، تو بانی پی ٹی آئی سے سول نافرمانی تحریک واپس لینے کی اپیل کی جا سکتی ہے۔
حکومت کے پاس ڈیڈلائن:
حکومت کو 30 جنوری تک کا وقت دیا گیا ہے۔ شوکت یوسفزئی نے کہا کہ "اگر حکومت نے لچک نہ دکھائی، تو تحریک انصاف احتجاج کے لیے حکمت عملی بنائے گی اور سول نافرمانی کی تحریک جاری رہے گی۔"
پس منظر:
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات کے امکانات پر غور کیا جا رہا ہے۔ پی ٹی آئی نے اپنے مطالبات کو مذاکرات کی بنیاد قرار دیتے ہوئے حکومت کو سنجیدگی کا مظاہرہ کرنے کا کہا ہے۔

اختتام:
شوکت یوسفزئی نے حکومت پر زور دیا کہ وہ ان دو مطالبات پر عمل درآمد کرے تاکہ مذاکرات کے عمل کو آگے بڑھایا جا سکے اور سیاسی استحکام پیدا ہو۔