اسرائیل میں وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کو کرپشن مقدمات میں ایک بار پھر عبوری ریلیف مل گیا ہے، کیونکہ عدالت نے پیر کے روز ہونے والی اہم سماعت عین وقت پر اچانک ملتوی کر دی۔
رپورٹس کے مطابق نیتن یاہو کو عدالت میں اپنا بیان ریکارڈ کرانا تھا، تاہم ان کے وکیل امیت حداد کی جانب سے رات گئے عدالت کو نئی معلومات فراہم کیے جانے کے بعد ججوں نے سماعت منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا۔ عدالت نے مختصر بیان میں صرف اتنا کہا کہ سماعت وکیل کی جانب سے موصولہ اپ ڈیٹ کے باعث مؤخر کی جا رہی ہے، تاہم ان تفصیلات کو عوام کے سامنے نہیں لایا گیا۔اسرائیلی میڈیا کے مطابق یہ پہلا موقع نہیں کہ نیتن یاہو کے خلاف جاری عدالتی کارروائی اچانک رکی ہو۔ اپریل کے دوران بھی ان کی متعدد پیشیاں "سیکیورٹی اور سفارتی وجوہات" کی بنیاد پر مؤخر کی جا چکی ہیں، جبکہ ایران اسرائیل کشیدگی اور خطے میں جنگی صورتحال کو بھی عدالتی تعطل کی بڑی وجہ قرار دیا جاتا رہا ہے۔
واضح رہے کہ نیتن یاہو اس وقت تین الگ الگ کرپشن کیسز میں رشوت، دھوکہ دہی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزامات کا سامنا کر رہے ہیں۔ یہ مقدمات 2019 میں فردِ جرم عائد ہونے کے بعد سے مسلسل زیر سماعت ہیں اور وہ اسرائیل کی تاریخ کے پہلے حاضر سروس وزیر اعظم ہیں جو فوجداری مقدمات میں عدالت کے کٹہرے میں کھڑے ہیں۔یاد رہے کہ نیتن یاہو 28 اپریل کو ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے کے بعد پہلی بار عدالت میں پیش ہوئے تھے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ بار بار سماعت ملتوی ہونے سے مقدمات کے حتمی فیصلے میں مزید تاخیر کا امکان بڑھتا جا رہا ہے، جس سے اسرائیلی سیاست اور عدالتی نظام دونوں پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔