سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور چیئرمین عمران خان کو اڈیالہ جیل سے خیبر پختونخوا منتقل کرنے کی مقامی شہری کی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے 20 ہزار روپے جرمانہ عائد کر دیا۔
دورانِ سماعت جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ اگر عمران خان کو کوئی مسئلہ ہوتا تو وہ خود درخواست دیتے، کیونکہ ان کے تین وکلاء آج بھی عدالت میں موجود تھے، مگر کسی وکیل نے ایسی درخواست نہیں دی۔ جسٹس جمال مندوخیل نے بھی کہا کہ یہ درخواست قیدی کے اہلِ خانہ یا خود قیدی کی جانب سے دائر کی جا سکتی ہے، نہ کہ کسی اور شہری کی جانب سے۔
درخواست گزار کا مؤقف تھا کہ یہ قومی مسئلہ ہے اور کسی کی ذاتی نہیں، جس پر جسٹس جمال مندوخیل نے جواب دیا کہ قومی مسائل آپ رکنِ اسمبلی بن کر سوچیے گا۔اس کے بعد سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے درخواست کو جرمانے کے ساتھ خارج کر دیا۔