اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے 86 کارکنوں کی ضمانت کی درخواستیں مسترد کر دی ہیں۔
یہ فیصلہ عدالت کے جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین نے سنایا، جسے فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد محفوظ کیا گیا تھا۔
کیس کی تفصیل:
واقعات کا پس منظر: یہ مقدمات 26 نومبر کے احتجاج کے سلسلے میں درج کیے گئے تھے، جن کا تعلق تھانہ ترنول اور تھانہ کوہسار کی حدود میں پیش آنے والے واقعات سے ہے۔
الزامات: مظاہرین پر امن و امان میں خلل ڈالنے، جلاؤ گھیراؤ اور دیگر شرپسندانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔
عدالت کا فیصلہ:
86 کارکنوں کی ضمانت کی درخواستیں خارج کر دی گئیں۔جبکہ ناجائز اسلحہ کیس میں ملوث 6 ملزمان کو ضمانت دے دی گئی ہے۔ان 6 ملزمان کی ضمانت 5 ہزار روپے کے مچلکوں کے عوض منظور کی گئی۔
قانونی اور سیاسی سیاق:
یہ کیس پی ٹی آئی کے کارکنان اور پارٹی قیادت کے خلاف جاری قانونی کارروائیوں کا ایک حصہ ہے، جو 2023 اور 2024 میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے بعد تیزی سے سامنے آئے۔ اس طرح کے فیصلے سیاسی اور قانونی دونوں سطحوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔