لاہور: وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے آزاد کشمیر کے حالیہ انتخابات کے حوالے سے اہم تبصرہ کیا ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) دو تہائی اکثریت سے آزاد کشمیر میں حکومت بنائے گی اور دھرنا دینے والے الیکشن کو روکنے میں ناکام رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دشمن کے ہاتھوں میں کھیلنے والے عناصر کو قانون کا سامنا کرنا پڑے گا۔پریس کانفرنس کے دوران، وفاقی وزیر انجیئنر امیر مقام کے ہمراہ، رانا ثناء اللہ نے بتایا کہ آزاد کشمیر کے الیکشن کا فیز 3 جاری ہے، اور دھرنا دینے والوں کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ وہ الیکشن کو روک نہیں سکے۔ انہوں نے کہا کہ منتخب حکومت اپنے جائز مطالبات پر نظرثانی کرے گی اور جو لوگ عوام کو ورغلانے کی کوشش کر رہے ہیں، انہیں قانون کا سامنا کرنا پڑے گا۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایک حلقے میں تین پولنگ سٹیشنز پر پولنگ روکنے کی کوشش کی گئی، اور دھاندلی کے ذریعے ہار کو بدلنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ رانا ثناء اللہ نے بتایا کہ ایک رکن شہید ہوا، مگر وہ دل کے مرض کی وجہ سے وفات پا گئے تھے۔انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر میں بھاری اکثریت سے حکومت بنائے گی اور پیپلز پارٹی کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے دھاندلی کے ثبوت پیش نہیں کیے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ الیکشن کے مرحلے وار ہونے پر پیپلز پارٹی بھی متفق تھی، اور الیکشن کمیشن نے پیپلزپارٹی کے مطالبے کو تسلیم کیا۔
رانا ثناء اللہ نے کہا کہ ایک پرامن الیکشن کو خراب کرنا جمہوریت کے لیے نقصان دہ ہے، اور مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے الیکشن کے بعد کشادگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ انہوں نے پیپلز پارٹی سے توقع ظاہر کی کہ وہ الٹی گنتی کو صحیح کرے گی اور جیت پر مبارکباد دے گی۔لیگی رہنما نے یہ بھی کہا کہ دھرنا دینے والے اپنے مقاصد میں ناکام ہوئے ہیں اور قانون سے فرار ہونے والوں کو قانون کا سامنا کرنا پڑے گا۔وفاقی وزیر امیر مقام نے الزام عائد کیا کہ بعض عناصر نے رات سے سکرپٹ تیار کیا تھا اور صبح 9 بجے سے بیانات شروع کر دیے۔ انہوں نے کہا کہ الزام تراشی سے کچھ حاصل نہیں ہوگا، اور عوام ہمارے جلسوں میں موجود ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا صرف پنجاب سے ہی پولیس اور لوگ لائے گئے، یا سندھ سے بھی نہیں آئے۔امیر مقام نے کہا کہ موجودہ حالات میں آزاد کشمیر کے انتخابات پرامن طریقے سے مکمل ہوں گے اور عوام کے ووٹ نہ دینے کی وجوہات کا جائزہ لینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) پھر بھی انتخابات میں کامیاب ہوگی اور عوام کی حمایت حاصل ہے۔