حافظ نعیم الرحمان، امیر جماعت اسلامی کراچی، نے لاہور میں جماعت اسلامی کے دھرنوں کو ناکام قرار دینے کے رانا ثنا اللہ کے بیان پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب حکومتیں زوال کا شکار ہوتی ہیں تو اس قسم کے بیانات سامنے آتے ہیں۔ حافظ نعیم الرحمان نے واضح کیا کہ جماعت اسلامی اپنے مطالبات کے لیے احتجاج کر رہی ہے، نہ کہ کسی ذات کے لیے۔انہوں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عوام کی مشکلات بڑھتی جا رہی ہیں اور اگر حکومت نے عوامی مطالبات تسلیم نہ کیے تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔ حافظ نعیم الرحمان نے حکومت کی مذاکراتی کمیٹی کو اسلام آباد بلانے کے بجائے احتجاجی مقام پر آکر براہ راست بات چیت کا مطالبہ کیا، اور کہا کہ مذاکرات کرنے والے یہاں آکر بتائیں کہ پٹرولیم لیوی کب ختم ہوگی اور عوام کو ریلیف کیسے دیا جائے گا۔انہوں نے واضح کیا کہ جماعت اسلامی کسی حکومتی کمیٹی کی بریفنگ کے لیے اسلام آباد نہیں جائے گی، بلکہ حکومت کو عوام کے مطالبات سننے ہوں گے، ورنہ احتجاجی تحریک مزید شدت اختیار کرے گی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ 13 ربیع الاول کو ہڑتال کی کال دی جائے گی، اور دھرنے جاری رہیں گے۔ ساتھ ہی، آئندہ مرحلے میں اسلام آباد کی طرف مارچ کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ اگر عوام کو ریلیف نہیں ملا، تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا، اور مختلف مقامات پر سڑکوں پر بیٹھنے کا سلسلہ شروع کیا جائے گا۔ انہوں نے مہنگی بجلی اور ڈیزل کی وجہ سے عوام کی مشکلات پر بھی زور دیا، اور مطالبہ کیا کہ صنعتوں کے لیے بجلی سستی کی جائے، بجلی کے بلوں سے غیرضروری ٹیکسز ختم کیے جائیں، اور حکومت اپنے اخراجات کم کرے تاکہ عوام پر مزید ٹیکسوں کا بوجھ نہ ڈالا جائے۔سرحد یونیورسٹی کے معاملے پر بات کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ ہر شخص کو آئین اور قانون کے دائرے میں رہ کر کام کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ واقعے میں جو بھی غلطی پر ہے، اس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے، اور شفاف تحقیقات سے فوج اور نوجوانوں کے درمیان اعتماد مزید مضبوط ہوگا۔ انہوں نے زور دیا کہ طاقتور شخص بھی قانون کے کٹہرے میں لایا جانا چاہیے اور میرٹ پر تحقیقات کے بعد کارروائی ہونی چاہیے۔