گڈز ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال جاری، حکومت اور اتحاد کے درمیان مذاکرات کا آغاز

گڈز ٹرانسپورٹرز کی ہڑتال جاری، حکومت اور اتحاد کے درمیان مذاکرات کا آغاز

کراچی اور اسلام آباد سمیت ملک بھر میں گڈز ٹرانسپورٹرز کی جاری پہیہ جام ہڑتال کے معاملے پر وفاقی حکومت اور آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اتحاد کے مابین مذاکرات کا آغاز ہوگیا ہے۔

مذاکرات میں وفاقی حکومت کی جانب سے وزیر مواصلات عبدالعلیم خان، وزیر پیٹرولیم پرویز علی ملک، وزیر پورٹ اینڈ شپنگ اور وزارت خزانہ کے نمائندے شامل ہیں۔ دوسری جانب، آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اتحاد کی قیادت صدر ملک شہزاد اعوان اور دیگر رہنماؤں چوہدری قمر زمان گل، ملک شبر خان، نثار حسین جعفری، امداد حسین نقوی اور چوہدری اویس کر رہے ہیں۔ہڑتال تیسرے روز بھی جاری ہے اور ملک بھر میں چھوٹی بڑی مال بردار گاڑیاں سڑکوں پر کھڑی ہیں۔ ملاکنڈ ڈویژن، دیر چترال ہائی وے، چکدرہ موٹروے اور سوات سمیت مختلف علاقوں میں ٹرانسپورٹ کا نظام مفلوج ہے۔

 اس ہڑتال کے باعث سیکڑوں پھلوں اور سبزیوں سے لدی گاڑیاں سڑکوں پر کھڑی ہیں، جس سے کاروباری سرگرمیاں اور سپلائی لائنز شدید متاثر ہو رہی ہیں۔ٹرانسپورٹرز کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے مطالبات تسلیم نہ کیے تو وہ ہڑتال غیرمعینہ مدت تک جاری رکھنے کے لیے تیار ہیں۔ مذاکرات جاری ہیں، اور مطالبات و ہڑتال کے خاتمے کے لیے بات چیت جاری ہے۔ عوام اور کاروباری طبقہ ہڑتال کے سبب پیدا ہونے والی مشکلات سے دوچار ہے، اور حکومت سے جلد حل نکالنے کی امید ظاہر کی جا رہی ہے۔