پیپلزپارٹی نے رہنمائوں کو ن لیگ کیساتھ رابطوں سے روک دیا، سیاسی پیغامات کا جواب دینے سے گریز کی ہدایت

ن لیگ اور پیپلزپارٹی میں دوریاں 
آزاد کشمیر انتخابات کے بعدپیپلز پارٹی کی مجلس عاملہ کا اجلاس بلانے پر غور شروع ،صدر آصف زرداری اور چیئرمین بلاول بھٹو مرکزی مجلس عاملہ کے اجلاس کی مشترکہ صدارت کریں گے، ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال، نئے انتظامی یونٹس کے قیام سے متعلق حالیہ بیانات پر غور ہوگا 
اسلام آباد (بیورو رپورٹ ،مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان پیپلزپارٹی کی قیادت نے پارٹی رہنمائوں اور ارکانِ پارلیمنٹ کو مسلم لیگ(ن) کے وفاقی و صوبائی وزرا اور دیگر رہنمائوں کے ساتھ رابطوں سے روک دیا ہے، دونوں اتحادی جماعتوں کے درمیان اختلافات میں شدت کے بعد پارٹی قیادت نے اہم ہدایات جاری کی ہیں۔ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی کے ذرائع نے بتایا کہ پارٹی رہنمائوں اور ارکانِ پارلیمنٹ کو کہا گیا ہے کہ وہ مسلم لیگ ن کے وزرا اور رہنمائوں سے براہِ راست رابطے نہ کریں، انہیں یہ ہدایت بھی دی گئی ہے کہ مسلم لیگ ن کے رہنمائوں کی جانب سے بھیجے جانے والے سیاسی پیغامات کا جواب دینے سے گریز کیا جائے، دوسری جانب پیپلز پارٹی نے موجودہ سیاسی صورتحال پر مشاورت کے لیے مرکزی مجلس عاملہ کا اجلاس بلانے پر بھی غور شروع کردیا ہے، اجلاس آزاد کشمیر کے انتخابات کے بعد بلائے جانے کا امکان ہے، تاہم اجلاس کی تاریخ اور مقام کا فیصلہ دیگر مرکزی رہنمائوں سے مشاورت کے بعد کیا جائے گا، صدر آصف علی زرداری اور چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری مرکزی مجلس عاملہ کے اجلاس کی مشترکہ صدارت کریں گے، اجلاس میں ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال، نئے انتظامی یونٹس کے قیام سے متعلق حالیہ بیانات اور آزاد کشمیر کے انتخابات پر تفصیلی غور کیا جائے گا۔ بلاول بھٹو زرداری پارٹی رہنمائوں کو آزاد کشمیر کے انتخابی نتائج اور نئے انتظامی یونٹس سے متعلق پارٹی مئوقف پر اعتماد میں لیں گے، اجلاس میں آزاد کشمیر کے انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے الزامات کا معاملہ بھی زیر بحث آئے گا، موجودہ سیاسی صورتحال میں مسلم لیگ ن کے ساتھ تعلقات اور آئندہ کی حکمت عملی پر بھی مشاورت متوقع ہے۔