برطانیہ میں شدید گرمی سے 1995 کا ریکارڈ بھی ٹوٹ گیا، بلیو الرٹ جاری کر دیا گیا

برطانیہ میں شدید گرمی سے 1995 کا ریکارڈ بھی ٹوٹ گیا، بلیو الرٹ جاری کر دیا گیا

لندن: برطانیہ میں رواں سال گرمی کی پانچویں لہر نے شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کردیا، ملک کے مختلف علاقوں میں درجہ حرارت مسلسل 30 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر رہا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق 1995 میں برطانیہ میں مجموعی طور پر 34 دن ایسے تھے جب درجہ حرارت 30 ڈگری سینٹی گریڈ سے زیادہ ریکارڈ کیا گیا، تاہم 2026 میں یہ تعداد بڑھ کر 35 دن تک پہنچ چکی ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق جمعرات کو ایسٹ اینگلیا اور ساؤتھ ایسٹ کے علاقوں میں گرمی کی شدت مزید بڑھنے کا امکان ہے، جہاں درجہ حرارت 36 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ سکتا ہے۔شدید گرمی کے پیش نظر ہیلتھ سیکیورٹی ایجنسی نے لندن، ایسٹ مڈلینڈز، ویسٹ مڈلینڈز، یارکشائر اور ہمبر کے علاقوں کے لیے بلیو الرٹ جاری کردیا ہے۔ شہریوں کو شدید گرمی کے دوران احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔دوسری جانب برطانیہ کے مختلف علاقوں میں شدید گرمی کے ساتھ خشک سالی کی صورتحال بھی برقرار ہے۔ خشک موسم کے باعث بعض علاقوں میں جنگلات میں آگ لگنے کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے ہیں، جس سے ماحولیاتی خدشات میں اضافہ ہوگیا ہے۔ماہرین کے مطابق موجودہ گرمی کی لہر برطانیہ میں غیر معمولی گرم موسم کے بڑھتے ہوئے رجحان کی ایک اور مثال ہے۔ حکام کی جانب سے آنے والے دنوں میں درجہ حرارت اور موسمی صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے، جبکہ شہریوں کو شدید گرمی کے دوران غیر ضروری طور پر دھوپ میں نکلنے سے گریز کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔