مشرق وسطیٰ کشیدگی کے اثرات، پاکستان میں مہنگائی بڑھنے لگی، 28 اشیاء مہنگی

مشرق وسطیٰ کشیدگی کے اثرات، پاکستان میں مہنگائی بڑھنے لگی، 28 اشیاء مہنگی

اسلام آباد: پاکستان میں مہنگائی کی رفتار میں ایک بار پھر نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے مطابق حالیہ ہفتے کے دوران مہنگائی میں 1.93 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ گزشتہ ہفتے یہ اضافہ 1.01 فیصد تھا۔

ادارہ شماریات کے مطابق سالانہ بنیادوں پر بھی مہنگائی کی شرح بڑھ کر 9.12 فیصد سے 12.15 فیصد تک جا پہنچی ہے، جو معیشت پر بڑھتے ہوئے دباؤ کی نشاندہی کرتی ہے۔رپورٹ کے مطابق حالیہ ہفتے میں مجموعی طور پر 28 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، جبکہ 8 اشیاء سستی اور 15 کی قیمتیں مستحکم رہیں۔تفصیلات کے مطابق ڈیزل کی قیمت میں 54.71 فیصد اور پیٹرول میں 17.86 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ ایل پی جی کی قیمت بھی 8.61 فیصد مہنگی ہوئی۔ اسی طرح سبزیوں اور دیگر اشیائے خوردونوش میں بھی اضافہ دیکھا گیا، جن میں ٹماٹر 9.35 فیصد، آلو 4.13 فیصد، پیاز 3.84 فیصد اور انڈے 3.77 فیصد مہنگے ہوئے۔اسی دوران بیف، مٹن، بریڈ اور پکی ہوئی دال کی قیمتوں میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ادارہ شماریات کے مطابق کچھ اشیاء کی قیمتوں میں کمی بھی دیکھی گئی ہے جن میں چکن، آٹا، گھی اور کوکنگ آئل شامل ہیں۔ اس کے علاوہ لہسن 3.78 فیصد اور کیلے 3.39 فیصد سستے ہوئے۔

آمدنی کے مختلف طبقوں کے لیے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق کم آمدنی والے طبقے (17 ہزار 732 روپے ماہانہ تک) کے لیے مہنگائی کی شرح 9.33 فیصد رہی، جبکہ 17 ہزار 733 سے 22 ہزار 888 روپے آمدنی والے طبقے کے لیے یہ شرح 11.50 فیصد ریکارڈ کی گئی۔اسی طرح 22 ہزار 889 سے 29 ہزار 517 روپے ماہانہ آمدنی والے طبقے کے لیے مہنگائی 10.51 فیصد اور 29 ہزار 518 سے 44 ہزار 175 روپے آمدنی والے طبقے کے لیے 10.61 فیصد رہی۔ماہرین کے مطابق ایندھن اور اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں اضافہ مہنگائی کی مجموعی شرح بڑھانے کی بڑی وجوہات ہیں، جس کا براہِ راست اثر عام صارفین پر پڑ رہا ہے۔