امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں اضافے کے نتیجے میں عالمی توانائی منڈیوں پر منفی اثرات مرتب ہونا شروع ہو گئے ہیں، جس کے باعث خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
اس کشیدگی کے سبب مارکیٹ میں تیل کی فراہمی کے خدشات بڑھ گئے ہیں، جس کا اثر عالمی معیشت اور سرمایہ کاری کے رجحانات پر بھی پڑ رہا ہے۔بین الاقوامی مارکیٹ میں برینٹ کروڈ آئل کی قیمت میں 1.54 فیصد اضافہ ہوا ہے، جو 95 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔ اسی طرح، امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل کی قیمت بھی 1.81 فیصد اضافے کے ساتھ 92 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کر رہی ہے۔ اماراتی مربن آئل بھی تقریباً 1.98 فیصد بڑھ کر 90 ڈالر فی بیرل کی سطح پر پہنچ گیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جغرافیائی سیاسی کشیدگی میں اضافے سے توانائی کی سپلائی سے متعلق خدشات پیدا ہو جاتے ہیں، جس سے عالمی سرمایہ کار محفوظ اثاثوں کی طرف رجحان کرتے ہیں اور تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ آتا ہے۔ تجزیہ کاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر صورتحال مزید کشیدہ ہوتی ہے تو آئندہ دنوں میں تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ممکن ہے، جبکہ عالمی معیشت پہلے ہی مہنگائی کے دباؤ کا سامنا کر رہی ہے۔
اس صورتحال کے پیش نظر، عالمی مارکیٹ میں توانائی کی قیمتیں اور معیشتی حالات کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، اور ممکنہ طور پر اس کے اثرات دیگر شعبوں پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔