دستور کے تحت جمہوری اداروں کی مضبوطی اور عوامی اختیار کو یقینی بنائیں:آصف زرداری

پاکستان کا دستور جو 10 اپریل 1973 کو منظور ہوا، ریاستی ڈھانچے کا بنیادی قانونی اور سیاسی فریم ورک ہے:یوم دستور پر پیغام
اسلام آباد ( آن لائن ) اسلامی جمہوریہ پاکستان کے صدر صدر پاکستان نے یومِ دستور کے موقع پر پیغام جاری کرتے ہوئے کہا ک پاکستان کا دستور، جو 10 اپریل 1973 کو منظور ہوا، ریاستی ڈھانچے کا بنیادی قانونی اور سیاسی فریم ورک ہے۔ اس نے پہلی بار براہِ راست منتخب پارلیمنٹ کے ذریعے بالغ رائے دہی کی بنیاد پر ملک کو متفقہ آئینی نظام فراہم کیا، جو طویل غیر یقینی صورتحال اور سابقہ ناکام کوششوں کے بعد ممکن ہوا۔صدر نے آئین کے معمارِ اعظم، شہید ذوالفقار علی بھٹو کو خراجِ عقیدت پیش کیا، جن کی قیادت نے سیاسی قوتوں کو متحد کر کے اتفاقِ رائے پیدا کیا۔ ساتھ ہی محترمہ بینظیر بھٹو کو بھی یاد کیا گیا، جنہوں نے مارشل لا کے بعد مشکل حالات میں جمہوری جدوجہد کو آگے بڑھایا۔صدر نے بتایا کہ دستور شہریوں کے لیے مجرد دستاویز نہیں بلکہ ایک زندہ حقیقت ہے، جو اداروں کے کام کرنے کے طریقہ کار، عدالتی نظام، سرکاری سہولیات اور عوامی خدمات کی فراہمی میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ اسی طرح یہ وفاقی اور صوبائی سطح پر تنازعات کے حل اور حقوق کے تحفظ میں بھی کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔صدر نے زور دیا کہ دستور کی اہمیت اس کے مخلصانہ نفاذ میں ہے، اور عوام ہی اپنے مقدر کے اصل مالک ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج ہم دستور کے دیرپا کردار پر غور کریں اور اس کے تحت جمہوری اداروں کی مضبوطی اور عوامی اختیار کو یقینی بنائیں۔