ایران کے پاس کوئی جوہری ہتھیار نہیں ہوں گے، آبنائے ہرمز کھلی اور محفوظ رہے گی، اگر کسی بھی وجہ سے ایسا نہ ہواتو پھر فائرنگ شروع ہو جائے گی:ٹرمپ‘ ایران لبنانی عوام کو تنہا نہیں چھوڑے گا: صدر مسعود پزشکیان
ایران اس عمل کو منطقی انجام تک پہنچانے کیلئے سنجیدہ ہے ، امریکہ کو انتخاب کرنا ہوگا وہ جنگ چاہتا ہے یا امن:نائب ایرانی وزیرخارجہ‘ اب بھی حالتِ جنگ میں ہیں،دشمن کو اپنی شرائط پر جنگ بندی قبول کرنے پر مجبور کیا: ترجمان ایرانی فوج
واشنگٹن‘تہران‘تل ابیب(مانیٹرنگ ڈیسک‘ایجنسیاں) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے امریکہ حتمی معاہدے پر مکمل عمل درآمد تک ایران کے اردگرد فوجی موجودگی رکھے گا۔ ایران کے اندر اور اطراف میں موجود تمام امریکی بحری جہاز، طیارے اور فوجی اہلکار اپنی جگہ پر موجود رہیں گے، جب تک حتمی معاہدہ مکمل طور پر نافذ نہیں ہو جاتا۔ ایران کے پاس کوئی جوہری ہتھیار نہیں ہوں گے، اور آبنائے ہرمز کھلی اور محفوظ رہے گی، اگر کسی بھی وجہ سے ایسا نہ ہواتو پھر فائرنگ شروع ہو جائے گی، اور یہ پہلے سے کہیں زیادہ بڑی، بہتر اور طاقتور ہوگی جیسی دنیا نے پہلے کبھی نہیں دیکھی۔امریکی صدر نے کہا کہ اگر معاہدے کی خلاف ورزی ہوئی تو پہلے سے زیادہ بڑے اور طاقتور حملے شروع کیے جائیں گے، امریکی فوج مکمل تیاری کے ساتھ موجود ہے اور اگلے مرحلے کے لیے تیار ہے، امریکا دوبارہ مضبوط ہو چکا ہے‘ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہماری انگلیاں اب بھی ٹریگر پر موجود ہیں، ایران لبنانی عوام کو تنہا نہیں چھوڑے گا۔اپنے بیان میں ایرانی صدر نے کہا کہ اسرائیل کی لبنان میں دراندازی جنگ بندی معاہدے کی کھلی خلاف ورزی ہے، اسرائیلی جارحیت کا تسلسل مذاکرات کو بے معنی بنا دے گا، یہ دھوکہ دہی اور ممکنہ معاہدوں پر عدم سنجیدگی کی ایک خطرناک علامت ہے۔علاوہ ازیں ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر قالیباف نے اپنے بیان میں کہا ہے جنگ بندی تجاویز میں لبنان اور تمام مزاحمتی محور شامل ہیں، جنگ بندی خلاف ورزیوں کی بھاری قیمت اور ان کا سخت ردعمل ہوگا۔بات چیت سے پہلے ہی 10 نکاتی تجاویز کے 3 اہم نکات کی خلاف ورزی کر دی گئی۔اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک بار پھر جنگ بندی کو سبوتاڑ کرنے کی کوشش کی ہے اور کہا ہے اسرائیل ایران سے دوبارہ جنگ کیلئے تیار ہیایک بیان میں نیتن یاہو نے کہا کہ ہمارے مزید اہداف ہیں جنہیں معاہدے یا جنگ دوبارہ شروع کرکے حاصل کریں گے، ایران کے ساتھ جنگ بندی میں حزب اللہ شامل نہیں۔ایران کے نائب وزیرِ خارجہ سعید خطیب زادہ نے کہا ہے ایران اس عمل کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے سنجیدہ ہے کیونکہ یہ ہمارے قومی مفاد میں ہے۔ امریکہ کو انتخاب کرنا ہوگا کہ وہ جنگ چاہتا ہے یا امن۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ بیک وقت یہ دونوں چیزیں نہیں کر سکتا۔سعید خطیب زادہ کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے امریکہ اور ایران جنگ بندی کی سنگین خلاف ورزی ہیں‘ایرانی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ کرنل ابراہیم ذوالفقاری نے کہا ہے کہ ملک اب بھی حالتِ جنگ میں ہے،ایران نے دشمن کو اپنی شرائط پر جنگ بندی قبول کرنے پر مجبور کیا۔ایرانی میڈیارپورٹس کے مطابق ترجمان ایرانی فوج کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خود کو ناقابلِ اعتماد ثابت کیا۔ انہوں نے کہا کہ جنگ بندی مذاکرات ایرانی قوم کی فتح ہیں، ایران نے دشمن کو اپنی شرائط پر جنگ بندی قبول کرنے پر مجبور کیا۔انہوں نے کہا کہ دشمن نے جوہری مذاکرات میں بھی ظاہر کیا کہ اس پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔