بیروت: اسرائیلی فضائیہ کا ایک طیارہ تکنیکی خرابی کے باعث لبنانی حدود میں گر کر تباہ ہوگیا۔
اسرائیلی ڈیفنس فورس (IDF) نے بدھ کو اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ طیارہ معمول کی پرواز پر تھا جب وہ تکنیکی خرابی کا شکار ہو کر لبنان کی حدود میں گر گیا۔آئی ڈی ایف نے اس بات کی وضاحت کی کہ واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اور نہ ہی سکیورٹی یا حساس معلومات کے لیک ہونے کا کوئی خدشہ ہے۔ اسرائیلی فوج نے واقعے کی مکمل تحقیقات شروع کر دی ہیں تاکہ اس کی وجوہات اور نتائج کا جائزہ لیا جا سکے۔
حوثی فورسز کا دعویٰ:
دوسری جانب، حوثی فورسز نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے یمن کے الجوف ضلع میں امریکی ڈرون طیارے کو مار گرایا ہے۔ حوثی ترجمان کے مطابق، یہ واقعہ 10 دن کے دوران تیسری بار پیش آیا ہے اور یہ مجموعی طور پر 18 واں امریکی ڈرون طیارہ ہے جسے جنگ کے آغاز سے اب تک نشانہ بنایا گیا ہے۔حوثیوں کا دعویٰ ہے کہ وہ اپنے فضائی دفاعی نظام کی مدد سے امریکی ڈرون طیاروں کو مسلسل نشانہ بنا رہے ہیں۔ اس دوران، امریکی حکام نے اس دعوے پر کوئی فوری تبصرہ نہیں کیا ہے، اور اس معاملے کی حقیقت کا پتا چلانے کے لیے تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
دونوں واقعات کا تنقیدی جائزہ:
اسرائیلی طیارے کی تباہی اور حوثی فورسز کا امریکی ڈرون کے مار گرائے جانے کے واقعات اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ مشرق وسطیٰ میں فضائی جنگ اور ڈرون حملوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ واقعات نہ صرف فوجی حکمت عملی کے بدلتے ہوئے رجحانات کو ظاہر کرتے ہیں بلکہ اس بات کی نشاندہی بھی کرتے ہیں کہ عالمی طاقتوں کے درمیان کشیدگی اور تنازعات میں مزید پیچیدگیاں آ سکتی ہیں۔