اسلام آباد کی انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے 9 مئی کے مقدمات میں پی ٹی آئی رہنما عمر ایوب کی ضمانت کنفرم کر دی۔
پی ٹی آئی کے رہنما عمر ایوب کے خلاف احتجاج سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، جس میں جج ابوالحسنات ذوالقرنین نے عمر ایوب کی ضمانت قبل از گرفتاری کی 9 درخواستوں پر سماعت کی۔سماعت کے دوران ریکارڈ پیش نہ کرنے پر جج ابو الحسنات ذوالقرنین نے اظہارِ برہمی کیا۔ پراسیکیوٹر نے بتایا کہ ریکارڈ تفتیشی افسر نے پیش کرنا تھا مگر وہ ابھی تک نہیں آیا۔جج نے اس پر ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ "یہ نوابوں کی طرح آتے ہیں، میں ان کا ملازم نہیں ہوں، میں آئی جی یا ڈی جی کا ملازم نہیں ہوں۔"
جج نے مزید کہا کہ "جب ریکارڈ مانگا جاتا ہے تو کبھی کوئی بہانہ، کبھی احتجاج اور کبھی ڈیوٹی آ جاتی ہے۔ اگر 20 منٹ تک ریکارڈ نہیں آتا تو ضمانت کی درخواستوں پر فیصلہ کر دوں گا۔"عمر ایوب کے خلاف مختلف تھانوں میں مقدمات درج ہیں، جن میں تھانہ شہزاد ٹاؤن، ترنول، کوہسار، آبپارہ اور مارگلہ شامل ہیں۔