بانی پی ٹی آئی سے مذاکرات کے علاوہ کوئی راستہ نہیں:فوادچودھری

 اپوزیشن کو نظر انداز کر کے حالات ٹھیک نہیں ہو سکتے، پاکستان میں کمزور حکومت چل رہی ہے
  اسلام آباد(آئی این پی ) سابق وفاقی وزیر فواد چودھری نے کہا ہے کہ بلوچستان اورخیبرپختونخوامیںد ہشت گردی ہے، تمام جماعتوں نے آپریشن کی مخالفت کر دی ہے، کوئی چارہ ہی نہیں کہ عمران خان کے ساتھ راستہ اوپن کیا جائے اور ڈائیلاگ ہوں،اپوزیشن کو نظر انداز کر کے پاکستان کے حالات ٹھیک نہیں ہو سکتے۔ایک انٹرویو میں فواد چودھری نے کہا کہ پاکستان میں کمزور حکومت چل رہی ہے، پورا سسٹم ہی گھبرانا شروع ہو جاتا ہے، عمران خان کو جیل میں مسلسل رکھنے سے عوام اور اداروں کے درمیان فاصلہ بڑھتا ہی جا رہا ہے۔فواد چودھری نے کہا کہ اس حکومت کی مقبولیت اور حمایت بہت کم ہے۔ جس کی وجہ سے بحران ہے۔ دوسری طرف عمران خان کی مقبولیت ہے اس میں کوئی دو رائے نہیں لیکن جو پی ٹی آئی کا آرگنائزیشن سٹرکچر ہے وہ اتنا تباہ شدہ ہے کہ وہ کوئی بڑا چیلنج حکومت کو دینے کی پوزیشن میں نظر نہیں آیا اور اس کی وجہ سے پی ٹی آئی کے بیرسڑ گوہر ہیں انھیں اندر جانے کی اجازت مل گئی اور بہنوں کو چھوڑ کر اندر چلے گئے، سلمان راجا کو اجازت نہیں ملی تو انھوں نے اپنے چیئرمین کے خلاف ٹوئٹ کر دیا۔انھوںنے کہا کہ پی ٹی آئی کے اندر جو حالات ہیں ان کی وجہ سے جو صورت حال ہے وہ خراب ہے، دوسری جانب حکومت اس پوزیشن میں نہیں ہے کہ وہ عمران خان کی مقبولیت کو ڈینٹ ڈال سکے۔ ملک میں اس وقت سیاسی بحران ہے، بیرونی سرمایہ کاری کے بجائے ملک سے پیسا باہر جا رہا ہے، بلوچستان اورخیبرپختونخوامیں ہشت گردی ہے، تمام جماعتوں نے آپریشن کی مخالفت کر دی ہے، بانی سے مذاکرات کے علاوہ کوئی راستہ ہی نہیں۔