27 ستمبر کا مارچ پُرامن ہوگا، تمام اپوزیشن جماعتوں کو شرکت کی دعوت ہے: بیرسٹر گوہر

27 ستمبر کا مارچ پُرامن ہوگا، تمام اپوزیشن جماعتوں کو شرکت کی دعوت ہے: بیرسٹر گوہر

پشاور: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی نے کہا ہے کہ 27 ستمبر کو ہونے والا مارچ پُرامن ہوگا اور اسے صرف ’’انصاف مارچ‘‘ کے طور پر منعقد کیا جائے گا۔

 انہوں نے تمام اپوزیشن جماعتوں کو مارچ میں شرکت کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ احتجاج کے دوران نہ انتشار پھیلایا جائے گا اور نہ ہی سرکاری وسائل استعمال کیے جائیں گے۔پشاور ہائیکورٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ صوبے آزمائشی بنیادوں پر نہیں بننے چاہییں اور صوبوں کی تشکیل یا تعداد سے متعلق فیصلوں میں جلد بازی سے گریز ضروری ہے۔ ایسے اقدامات نہیں ہونے چاہییں جن سے ملک کے وفاقی ڈھانچے یا قومی یکجہتی کو نقصان پہنچے۔انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے صوبوں سے متعلق بیان پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی اس بیان کی مذمت کرتی ہے۔ ان کے مطابق پارٹی کی کور کمیٹی اور پولیٹیکل کمیٹی کے اجلاس میں بھی اس معاملے پر غور کیا گیا ہے اور وزیراعلیٰ پنجاب سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اپنے الفاظ واپس لیں۔بیرسٹر گوہر نے کہا کہ سیاسی اور ذاتی اختلافات اپنی جگہ، تاہم ملک کا امن و امان سب سے مقدم ہے۔ انہوں نے دہشت گردی کے حوالے سے پارٹی کے مؤقف کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا بیانیہ ہے کہ دہشت گردی کے پیچھے بھارت اور اس کا خفیہ ادارہ ’را‘ ہے، اس لیے پاکستان کے دشمنوں کو سپورٹ نہیں کیا جانا چاہیے۔

پی ٹی آئی چیئرمین نے خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ کی سندھ میں اسٹریٹ موومنٹ کے دوران مبینہ پذیرائی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس سے پارٹی کا حوصلہ بڑھا ہے۔ ان کے بقول اس صورتحال سے ظاہر ہوتا ہے کہ عوام موجودہ اسٹیٹس کو سے نجات چاہتے ہیں اور سیاسی تبدیلی کے خواہاں ہیں۔انہوں نے ایک بار پھر واضح کیا کہ 27 ستمبر کا مارچ پُرامن ہوگا اور یہ محض شوقیہ احتجاج نہیں ہوگا۔ بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی یہ ثابت کرے گی کہ اس کے کارکنان پُرامن سیاسی جدوجہد پر یقین رکھتے ہیں اور مارچ کے دوران سرکاری وسائل استعمال نہیں کیے جائیں گے۔انہوں نے مولانا فضل الرحمن سمیت تمام اپوزیشن جماعتوں اور جوائنٹ اپوزیشن سے اپیل کی کہ وہ 27 ستمبر کے مارچ میں پی ٹی آئی کا ساتھ دیں۔بیرسٹر گوہر نے کہا کہ عوام جمہوری طریقے سے تبدیلی چاہتے ہیں، ایسی تبدیلی جس میں ملک کے تمام شہریوں کے حقوق محفوظ ہوں۔ انہوں نے نئے انتخابات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں ’’صلح حدیبیہ‘‘ کی طرز پر ’’صلح پاکستان‘‘ ہونی چاہیے، جس میں تمام اسٹیک ہولڈرز شامل ہوں اور سب کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جائے۔

پی ٹی آئی چیئرمین کا کہنا تھا کہ عوام سیاسی کشیدگی اور تقسیم سے بیزار ہوچکے ہیں۔ انہوں نے صوبوں کی تشکیل کے معاملے پر اپنے مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کے فیصلے عجلت میں نہیں کیے جانے چاہییں۔بیرسٹر گوہر نے آبادی اور انتظامی تقسیم کی مثالیں دیتے ہوئے کہا کہ امریکا میں ریاستوں کی تعداد اور بھارت میں بعض ریاستوں کی بڑی آبادی کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ صوبوں سے متعلق کسی بھی فیصلے میں تاریخی، انتظامی، معاشی اور قومی مفاد کے تمام پہلوؤں کو سامنے رکھنا ضروری ہے۔