امریکا کا ایران کے 5 آئل ٹینکرز تباہ کرنے کا دعویٰ، حملے کی ویڈیوز بھی جاری کر دیں

امریکا کا ایران کے 5 آئل ٹینکرز تباہ کرنے کا دعویٰ، حملے کی ویڈیوز بھی جاری کر دیں

واشنگٹن: امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی فورسز نے ایران کے خام تیل لے جانے والے 5 بحری جہازوں کو تباہ کردیا ہے، جبکہ ایران نے بھی امریکی و اتحادی اہداف کو میزائلوں سے نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔

 تازہ کارروائیوں کے بعد امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی مزید شدت اختیار کرگئی ہے۔امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق ایرانی آئل ٹینکرز کے خلاف کارروائی پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے دو روز کے دوران ایک امریکی جنگی بحری جہاز کو دو مرتبہ بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنانے کی کوشش کے بعد کی گئی۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ امریکی جنگی بحری جہاز نے ایرانی میزائل حملوں کو کامیابی سے ناکام بنایا اور دونوں واقعات میں کسی امریکی اہلکار کو نقصان نہیں پہنچا۔سینٹکام کے مطابق ایرانی آئل ٹینکرز کے خلاف کارروائی کو امریکی بحری جہاز پر مبینہ میزائل حملوں کے جواب کے طور پر کیا گیا۔ امریکی حکام کے مطابق خطے میں امریکی فوجی اثاثوں کو درپیش خطرات کے پیش نظر ایران کی عسکری سرگرمیوں پر مسلسل نظر رکھی جارہی ہے۔

امریکی وزیر خارجہ کی ایران کو وارننگ
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ایران کو سخت الفاظ میں خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر تہران نے امریکی جنگی بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تو ایران کو اپنے آئل ٹینکرز سے محروم ہونا پڑے گا۔امریکی مؤقف کے مطابق ایرانی جنگی کارروائیوں کے جواب میں واشنگٹن اپنے فوجی اور بحری اثاثوں کے دفاع کے لیے ضروری اقدامات جاری رکھے گا۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ خطے میں امریکی فورسز کو نشانہ بنانے کی کسی بھی کوشش کا جواب دیا جائے گا۔

ایران کا اردن میں امریکی اہداف پر حملے کا دعویٰ
دوسری جانب ایرانی سرکاری میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے اردن میں امریکی اہداف کو میزائلوں سے نشانہ بنایا ہے۔ایرانی دعوے کے مطابق حملہ خطے میں امریکی فوجی موجودگی اور ایران کے خلاف ہونے والی کارروائیوں کے ردعمل میں کیا گیا۔ تاہم اس دعوے کی آزاد ذرائع سے فوری طور پر مکمل تصدیق نہیں ہوسکی۔امریکی سینٹرل کمانڈ نے اردن میں موجود امریکی ایئربیس پر مبینہ ایرانی میزائل حملے کے حوالے سے فوری طور پر کوئی تفصیلی بیان جاری نہیں کیا۔

خطے میں کشیدگی بڑھنے کا خدشہ
ایرانی آئل ٹینکرز کے خلاف امریکی کارروائی اور اس کے بعد ایران کی جانب سے جوابی میزائل حملوں کے دعوے نے مشرقِ وسطیٰ میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق اگر دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست عسکری کارروائیوں کا سلسلہ جاری رہا تو اس کے اثرات صرف امریکا اور ایران تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ خلیجی خطے، عالمی توانائی کی منڈی اور تیل کی سپلائی بھی متاثر ہوسکتی ہے۔خاص طور پر آبنائے ہرمز اور خطے کے اہم بحری راستوں کی صورتحال عالمی منڈی کے لیے انتہائی اہم ہے، کیونکہ یہاں کسی بھی بڑے عسکری تصادم یا بحری آمدورفت میں رکاوٹ سے عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔موجودہ صورتحال میں امریکا اور ایران کی جانب سے ایک دوسرے کو دی جانے والی دھمکیوں اور تازہ عسکری کارروائیوں نے خطے میں کسی بڑے تصادم کے خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔