آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے دوران تین بڑے بحری جہاز، جن میں دو سپر آئل ٹینکرز اور ایک ایل این جی بردار جہاز شامل تھے، عمان کے ساحل کے قریب متبادل راستہ اختیار کر کے گزرنے کی کوشش کر رہے تھے۔
یہ پیش رفت عالمی توانائی کی منڈی کے لیے اہم سمجھی جا رہی ہے کیونکہ یہ جہاز دنیا کے بڑے ترین آئل ٹینکرز میں شامل ہیں اور جنگ شروع ہونے کے بعد خلیج سے نکلنے والے پہلے ایل این جی کیریئر تھے۔جہازوں کی نگرانی عمان شپ مینجمنٹ کمپنی کر رہی تھی اور سفر کے دوران وہ عمانی ملکیت ظاہر کر رہے تھے۔ جب یہ جہاز عمان کے مسندم جزیرہ نما کے قریب پہنچے، تو تقریباً صبح 9 بج کر 30 منٹ (لندن کے وقت کے مطابق) اپنی خودکار لوکیشن سگنلز بند کر دیے، جس کے بعد ان کی درست پوزیشن معلوم نہیں ہو سکی۔رپورٹس کے مطابق ایران نے تنازع کے آغاز کے بعد آبنائے ہرمز کو عملی طور پر محدود کر دیا ہے، تاہم ایران چند دوست ممالک سے تعلق رکھنے والے جہازوں کو مخصوص شمالی راستے سے گزرنے کی اجازت دے رہا ہے۔ ایرانی نائب وزیرِ خارجہ کاظم غریب آبادی کے مطابق ایران اور عمان جہازوں کی آمد و رفت کی نگرانی کے لیے نیا پروٹوکول تیار کر رہے ہیں۔
بین الاقوامی میڈیا نے بتایا ہے کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر فی سفر تقریباً 2 ملین ڈالرز فیس عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جس سے عالمی توانائی کی قیمتوں پر دباؤ بڑھ گیا ہے، خاص طور پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر۔جہازوں کی نقل و حرکت کی نگرانی سگنل جیمنگ اور جعلی سگنلز کی وجہ سے مشکل ہو گئی ہے۔ دونوں آئل ٹینکرز تقریباً 2 ملین بیرل خام تیل لے کر جا رہے تھے، جبکہ گیس بردار جہاز خالی تھا۔جہازوں کی منزل کے بارے میں تفصیلات کے مطابق:ایک ٹینکر سعودی عرب سے میانمار کی بندرگاہ کیاؤک پیو جا رہا تھا، جہاں سے پائپ لائن کے ذریعے تیل مغربی چین منتقل کیا جائے گا۔دوسرا جہاز ابوظبی سے روانہ ہوا، مگر اس کی حتمی منزل ظاہر نہیں کی گئی۔یہ پیش رفت آبنائے ہرمز میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران توانائی کی عالمی مارکیٹ پر اثر ڈال سکتی ہے اور خطے میں موجود سیاسی و فوجی خطرات کی اہم نشاندہی کرتی ہے۔