700 سے زائد نایاب پرندے آزاد، 18 ملزمان کو پانچ لاکھ جرمانہ، ایک پر ایف آئی آر درج
لاہور (خصوصی رپورٹ)سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب کی زیر قیادت محکمہ تحفظ جنگلی حیات و پارکس پنجاب نے صوبہ بھر میں جنگلی حیات کی غیر قانونی اسمگلنگ، شکار اور ناجائز کاروبار کے خلاف کریک ڈائون شدید تر کر دیا ہے۔ تازہ ترین کارروائیوں کے دوران وائلڈ لائف رینجرز نے لاہور میں اسمگل کی جانے والی زرد ممولوں کی ایک بہت بڑی کھیپ برآمد کرنے سمیت غیر قانونی شکار میں ملوث 19 ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔تفصیلات کے مطابق، ڈپٹی چیف وائلڈ لائف رینجر لاہور ریجن سخی محمد جوئیہ کی ہدایت پر وائلڈ لائف رینجرز شیخوپورہ نے ناکہ بندی کے دوران شیخوپورہ سے لاہور لائے جانے والے 700 سے زائد زرد ممولے برآمد کر کے ایک اسمگلر کو موقع پر گرفتار کیا۔ ملزم کے خلاف مقامی تھانے میں مقدمہ (ایف آئی آر) درج کرا دیا گیا ہے، جبکہ تمام 700 سے زائد پرندوں کو عدالتی حکم پر قدرتی ماحول میں آزاد کر دیا گیا۔ اسی نوعیت کی ایک اور کارروائی میں غیر قانونی شکار میں ملوث 5 ملزمان کو گرفتار کر کے 2 لاکھ 10 ہزار روپے محکمانہ جرمانہ عائد کیا گیا۔علاوہ ازیں، اسسٹنٹ چیف وائلڈ لائف رینجر گجرات قاسم رضا نے تحصیل کھاریاں میں کتوں کے ذریعے جنگلی سور کا غیر قانونی شکار کرنے والے 8 شکاریوں کو گرفتار کر کے 1 لاکھ 10 ہزار روپے جرمانہ کیا، جبکہ اسسٹنٹ چیف وائلڈ لائف رینجر چکوال مرزا عابد حسین نے بٹیر کے 5 شکاریوں کو حراست میں لے کر 1 لاکھ 75 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا اور بٹیر پکڑنے والے 7 نیٹنگ گیئرز ضبط کر لیے۔ ادھر راجن پور میں اسسٹنٹ چیف وائلڈ لائف رینجر صائمہ محسن نے گشت کے دوران فالکن اور کونج کے شکار کے لیے بنائی گئی 3 کمین گاہیں مسمار کر کے 3 نیٹ ضبط کر لیے۔ محکمہ وائلڈ لائف کے مطابق 18 ملزمان کو مجموعی طور پر 4 لاکھ 95 ہزار روپے محکمانہ معاوضہ کی مد میں جرمانہ کر کے کیسز نمٹا دیے گئے ہیں۔