تیونس کے دارالحکومت تیونس اور جنوبی علاقوں میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں، جن کے دوران مظاہرین نے سڑکیں بند کیں، ٹائر جلائے اور پولیس پر پتھراؤ کیا، جبکہ پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا۔
احتجاج کی وجہ پولیس سے متعلق مختلف واقعات میں شہریوں کی ہلاکتیں بتائی جا رہی ہیں۔خبر رساں اداروں اے ایف پی اور رائٹرز کے مطابق جمعرات کو دارالحکومت کے نواحی علاقے اتضامن میں ایک شخص کی ہلاکت کے بعد احتجاج شروع ہوا۔ مذکورہ شخص کو منشیات فروشی کے شبہے میں حراست میں لیا گیا تھا۔ اس کی موت کے بعد پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس استعمال کی۔متوفی کے اہل خانہ نے الزام عائد کیا کہ گرفتاری کے بعد پولیس اہلکاروں نے اس پر تشدد کیا، جس کے نتیجے میں اس کی موت واقع ہوئی۔ خاندان نے واقعے کی شفاف تحقیقات اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ تاہم مقامی میڈیا کی رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ مذکورہ شخص کی موت منشیات نگلنے کے باعث ہوئی۔ واقعے سے متعلق مختلف مؤقف سامنے آنے کے بعد اس کی وجوہات کے تعین کے لیے تحقیقات اہمیت اختیار کر گئی ہیں۔احتجاج کے دوران مظاہرین نے سڑکوں پر ٹائر جلائے اور پولیس پر پتھراؤ کیا۔ پولیس نے علاقے میں نیشنل گارڈ کے ایک مرکز کی حفاظت کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا، جبکہ کشیدگی کے باعث علاقے میں صورت حال تناؤ کا شکار رہی۔
جنوبی قصبے جبی نانہ میں بھی ایک شخص کی ہلاکت کے بعد پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ متوفی کے اہل خانہ کا کہنا تھا کہ وہ سکیورٹی فورسز کے تعاقب کے دوران ہلاک ہوا۔ مقامی میڈیا کے مطابق احتجاج کے دوران مظاہرین نے ایک گاڑی کو آگ لگا دی اور ٹائر جلائے، جس کے جواب میں پولیس نے آنسو گیس استعمال کی۔دریں اثنا ساحلی شہر صفاقس میں طلبہ نے ایک طالبہ کی موت کے خلاف احتجاج کیا، جسے دل کا عارضہ لاحق تھا۔ اس کے ساتھی طلبہ نے الزام لگایا کہ ایمبولینس تاخیر سے پہنچی اور طبی سہولتوں کی کمی کے باعث اسے بروقت مدد فراہم نہیں کی جا سکی۔ طلبہ نے اس واقعے پر احتجاج کرتے ہوئے جمعے کو جامعہ صفاقس کی مختلف فیکلٹیز میں ہڑتال کی اپیل کی۔تیونس میں یہ احتجاج ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ملک کو مہنگائی، معاشی مشکلات، بے روزگاری اور بنیادی عوامی خدمات کی کمی جیسے مسائل کا سامنا ہے۔
عوامی حلقوں میں حکومتی کارکردگی پر ناراضی بڑھ رہی ہے اور شہری بہتر معاشی حالات اور بنیادی سہولتوں کی فراہمی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔گزشتہ ہفتے بھی ہزاروں افراد نے صدر قیس سعید کے خلاف احتجاج کیا تھا۔ مظاہرین نے صدر پر جمہوری اداروں کو کمزور کرنے اور ملکی معیشت کو درست انداز میں نہ سنبھالنے کے الزامات عائد کیے تھے۔ تازہ جھڑپوں نے ملک میں سیاسی اور سماجی کشیدگی کے حوالے سے خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔دوسری جانب تیونس کی فوجی عدالت نے بدھ کو اپوزیشن رہنما الفہ حمدی کو ریاستی سلامتی کے خلاف سازش اور فوج کو احکامات کی خلاف ورزی پر اکسانے کے الزامات میں چار سال قید کی سزا سنائی۔ یہ فیصلہ صدر قیس سعید کے مخالفین کے خلاف جاری قانونی کارروائیوں کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔